بیماری اور ہسپتال لے جانے کو خفیہ رکھنے پر امریکی وزیر دفاع سے جواب طلب

کس کے حکم پر امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو ہسپتال لے جانے کا کام راز داری میں رکھا گیا۔ بیماری کے بارے میں صدر، کانگریس اور وائٹ ہاؤس کیوں لا علم رہے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

اگرچہ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو گذشتہ پیر کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ وہ کچھ وقت کے لیے گھر سے دفتری امور نمٹائیں گے لیکن ایسا لگتا ہے کہ ان کے ہسپتال میں خفیہ طور پر داخلے کا بحران ابھی ختم نہیں ہوا ہے۔

خفیہ کال کی تفصیلات اور جواب دہی

ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے چیئرمین مائیک روگز نے سیکرٹری دفاع لائیڈ آسٹن کو ایک مکتوب ارسال کیا ہے جس میں ان سے کہا گیا کہ وہ ہاؤس آرمڈ سروسز کمیٹی کے سامنے اپنے ہسپتال میں داخل ہونے کو راز میں رکھنے کا بیان ریکارڈ کرائیں۔

مکتوب میں لکھا ہے کہ "جب آپ اورمیں نے آخری بار بات کی تھی تو آپ نے اپنے حالیہ ہسپتال میں داخل ہونے کی رازداری سے متعلق سوالات کے حوالے سے مکمل شفافیت کا وعدہ کیا تھا۔اگرچہ آپ نے میرے کچھ سوالات کے جوابات دیے، لیکن پریشان کن سوالات کا جواب نہیں ملا"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "خاص طور پرمجھے تشویش ہے کہ آپ نے جواب دینے سے انکار کر دیا ہے کہ آیا آپ نے اپنے عملے سے کہا ہے کہ وہ امریکی صدر،کانگریس یا کسی اور کو آپ کے ہسپتال میں داخل ہونے کے بارے میں مطلع نہ کریں۔

بدقسمتی سےاس سے مجھے لگتا ہے کہ معلومات کو جان بوجھ کر کانگریس سے روکا گیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ "کانگریس کو معلوم ہونا چاہیے کہ کیا ہوا اور کس نے کابینہ کے سکریٹری کے ٹھکانے کے انکشاف کو روکنے کے لیے فیصلے کیے۔ آپ کی بے تکلفی اور مکمل جوابات دینے کے لیے 14 فروری 2024 کو مکمل کمیٹی سے بات ضروری ہے۔ جہاں کمیٹی "صدر، کانگریس اور امریکی عوام سے معلومات کو روکنے کے لیے کیے گئے فیصلوں سے متعلق آپ کو براہ راست سننا چاہتی ہے۔

اس پیغام کو سینیرامریکی وزیر کی صحت کی خرابی کے بعد ہسپتال میں داخل کیے جانے کے بحران میں تازہ ترین پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا۔ یہ معاملہ تمام متعلقہ لوگوں سے چھپایا جا رہا تھا یہاں تک کہ امریکا کئی دن وزیر دفاع کے بغیر رہا۔

یکم جنوری کو والٹر ریڈ ہسپتال میں لائیڈ آسٹن کے داخلے کے بعد صدربائیڈن، وائٹ ہاؤس اور کانگریس کو کئی دن تک تک بے خبر رکھا گیا۔

اس صورتحال کے حوالے سے لائیڈ آسٹن کے بیماری کے دن امریکی ایمرجنسی نمبر پر کال کے بعد نئے سوالات نے جنم لیا ہے، جس میں نئے سال کے دن سیکرٹری دفاع کے گھر ایمبولینس بھیجنے کی درخواست کی گئی تھی۔

’سی این این‘ کے مطابق کال سے انکشاف ہوا کہ اسسٹنٹ نے ایمرجنسی سروسز کے اہلکار سے گفتگو کو خفیہ رکھنے کو کہا۔ پھر لائٹ اور سائرن کے بغیر ایمبولینس بھیجنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ "ہم تھوڑی دیر کے لیے لائم لائٹ سے دور رہنے کی کوشش کر رہے ہیں"۔

ہنگامی کال وصول کرنے والے نے جواب دیا کہ ہاں میں سمجھتا ہوں۔ ہاں عام طور پر جب وہ رہائشی محلے میں پہنچتے ہیں تو وہ اس کا سائرن اور لائٹ بند کر دیتے ہیں۔ کیا انہوں نے بالکل سینے میں درد کی شکایت کی ہے؟ اس پر اسسٹنٹ نے جواب دیا’نہیں‘۔

ملازم نے کہا کہ ٹھیک ہے اور پوچھا کہ کیا وہ ہوش کھو بیٹھے ہیں۔ یا ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے وہ ہوش کھونے والے تھے؟۔ اس نے پھر ’نا‘ میں جواب دیا۔

طبی طریقہ کار کے بعد پیچیدگیاں

یہ بات قابل ذکر ہے کہ پینٹاگان نے یہ انکشاف کرنے کے لیے کئی دن انتظار کیا تھا کہ 70 سالہ آسٹن کو پیریکم جنوری کی شام کو واشنگٹن کے قریب والٹر ریڈ ملٹری ہسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔ ان کی صحت میں پیچیدگی کی وجہ انہیں ایمرجنسی طبی سہولیات نہ ملنا تھی۔

محکمے کے حکام نے بتایا کہ 1 جنوری کو انہیں ایمبولینس کے ذریعے ہسپتال لے جانے سےقبل 22 دسمبر کو بھی انہیں تکلیف کے بعد ایک رات ہسپتال چیک اپ کے لیے لایا گیا تھا۔

وائٹ ہاؤس نے اعلان کیا کہ کوئی نہیں جانتا تھا کہ امریکی وزیر دفاع لائیڈ آسٹن کو پروسٹیٹ کینسر ہے۔

امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگان) نے ایک بیان میں اعلان کیا کہ انہیں گذشتہ پیر کو ہسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے۔ تاہم وہ صحت یاب ہونے تک گھر ہی سےدفتری امور بھی انجام دیں گے۔ تاہم ان کی اس بیماری میں علاج کے طریقہ کار کو خفیہ رکھنے پر جواب طلبی کا سامنا ہے

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں