حوثیوں کے حملے کے بعد متاثرہ ہونے والے امریکی جہاز کے مناظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

یمن میں تجارتی بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملوں کے بعد بحیرہ احمر ایک کشیدہ آبی گزرگاہ میں تبدیل ہو گیا ہے۔

گذشتہ تین دنوں کے دوران حوثی گروپ جسے امریکا نے عالمی دہشت گرد تنظیم قرار دیا ہے نے 3 حملے کیے جن میں اس عالمی سطح پر اہم شپنگ لین میں تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا۔

خبر رساں ادارے رایٹرز نے جمعے کے روز خلیج عدن میں جہاز ایم وی گِنکو پیکارڈی پر حملے کے مناظر جاری کیے ہیں۔

یمنی علاقے سے داغے گئے ڈرون کے حملے کے بعد جہاز کے بورڈ کا کچھ حصہ جل گیا تھا۔

جمعرات (18 جنوری 2023ء) ہندوستانی بحریہ نے اعلان کیا کہ اس نے خلیج عدن میں امریکی ملکیت والے جہاز کے عملے کو ایرانی حمایت یافتہ حوثی تحریک کے حملے کے بعد بچا لیا ہے۔

اس حملے کے بعد امریکی فوج نے 14 حوثی میزائلوں کو نشانہ بناتے انہیں تباہ کیا۔ یہ حملے خطے میں تجارتی بحری جہازوں اور امریکی بحریہ کے جہازوں کے لیے ایک انتہائی خطرے کی نمائندگی کرتے ہیں۔

ادھرامریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا کہ حوثیوں نے 3 دنوں میں تیسرے حملے میں امریکی جہاز ChemRanger کو دو اینٹی شپ بیلسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا۔

انہوں نے کہا کہ ٹینکر پرمارشل جزائر کا جھنڈا لہرا رہا ہے اور یہ ریاستہائے متحدہ کی ملکیت ہے۔ جہازکو کوئی نقصان نہیں پہنچا۔

قابل ذکر ہے کہ ایران کے اتحادی حوثی گروپ کی طرف سے بحیرہ احمر میں اور اس کے آس پاس بحری جہازوں پر شروع کیے گئے ان حملوں کی وجہ سے ایشیا اور یورپ کے درمیان تجارت میں کمی آئی اور اس جنگ کے بڑھنے اور پھیلنے کے بارے میں بڑی طاقتوں کی تشویش میں اضافہ ہوا۔

مقبول خبریں اہم خبریں