دمشق میں اسرائیلی بمباری میں ہلاک پاسداران انقلاب کےاہلکاروں کی شناخت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شام کے دارالحکومت دمشق میں المزہ محلے میں اسرائیلی بمباری میں ہلاک ہونے والے 10 افراد میں ایرانی مشیروں کی شناخت جاری کی گئی ہے جن میں 4 ایرانی فوجی مشیربھی شامل ہیں۔

پاسداران انقلاب کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ دمشق پر بمباری کے دوران چار ایرانی مشیر مارے گئے ہیں۔ ان کی شناخت امید وار، علی آقازادہ، حسین محمدی اور سعید کریمی کے ناموں سے کی گئی ہے۔

"امریکی افواج کے خلاف حملوں کا ماسٹر مائنڈ"

درایں اثناء امریکی اخبار ’واشنگٹن پوسٹ‘ نے تصدیق کی ہے کہ المزہ کے مقام پر مارا جانے والا ایک ایرانی اہلکارامریکی افواج کے خلاف حملوں کا ماسٹر مائنڈ تھا۔

شام میں ایرانی پاسداران انقلاب کے انٹیلی جنس اہلکار اور ان کا نائب ہفتے کے روز دمشق میں اسرائیلی حملے میں مارے گئے۔ ایرانی مہر نیوز ایجنسی کے مطابق پاسداران انقلاب کے دو ارکان بھی ہلاک ہوئے تھے۔ بعد میں ان کی تعداد چار بتائی گئی تھی

"4 فوجی مشیر"

ایرانی پاسداران انقلاب نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے دارالحکومت میں "چار ایرانی فوجی مشیر" اور "شامی فورسز کے متعدد ارکان" مارے گئے۔ پاسداران انقلاب کے مطابق اس حملے کے پیچھے اسرائیل کا ہاتھ ہے۔

مہر ایجنسی نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ "شام میں پاسداران انقلاب کا انٹیلی جنس اہلکار، اس کا نائب اور پاسداران انقلاب کےدو دیگر ارکان شام پر اسرائیل کے حملے میں مارے گئے"۔

ایران کے قریبی رہ نماؤں کا اجلاس

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے اطلاع دی ہے کہ اس حملے میں 10 افراد مارے گئے جس میں ایک عمارت کو نشانہ بنایا گیا جس میں "ایران کے قریبی رہ نماؤں کی میٹنگ" ہو رہی تھی۔

ابتدائی اطلاعات کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد پانچ بتائی گئی تھی۔ آبزرویٹری نے بتایا کہ مرنے والوں میں ایک شہری بھی شامل ہے۔

یہ چھاپہ پاسداران انقلاب کے اس اعلان کے چار دن بعد ہوا ہے جس میں ایران نے عراقی کردستان کے علاقے کے دارالحکومت اربیل میں "موساد کے ایک ہیڈ کوارٹر" پر حملہ کرنے کا دعوٰ کیا تھا۔ تاہم عراقی حکومت نے اس حملےمیں موساد کے کسی مشتبہ مرکز کو نشانہ بننے کی تردید کی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں