غزہ میں جنگی جرائم، اسرائیلی صدر کے خلاف دورہ سوئٹزرلینڈ کے دوران شکایت درج

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سوئس پراسیکیوشن نے جمعہ کو کہا کہ غزہ جنگ میں جنگی جرائم پر اسرائیلی صدر اسحاق ہرتصوغ کے خلاف سوئٹزرلینڈ کے دورے کے موقع پر شکایت جمع کروائی گئی ہے۔

فیڈرل پراسیکیوٹر آفس (بی اے) نے تصدیق کی ہے کہ اسے اسرائیلی صدر کے خلاف مجرمانہ شکایت موصول ہوئی ہے جو جمعرات کو ڈیووس میں عالمی اقتصادی فورم کے سالانہ اجلاس میں غزہ جنگ پر بات کرنے کے لیے موجود تھے۔

بی اے نے ایک بیان میں کہا، "مجرمانہ شکایات کی جانچ اب معمول کے طریقۂ کار کے مطابق کی جائے گی،" اور مزید کہا کہ "متعلقہ شخص کے استثنیٰ کے سوال کا جائزہ لینے کے لیے" وہ وزارتِ خارجہ کے ساتھ رابطے میں تھا۔

آفس نے یہ نہیں بتایا کہ مخصوص شکایات کیا تھیں یا انہیں کس نے درج کروایا تھا۔

لیکن مبینہ طور پر شکایت کنندگان کی طرف سے جاری کردہ اور اے ایف پی کے حاصل کردہ ایک بیان جس کا عنوان ہے "انسانیت کے خلاف جرائم کے خلاف قانونی کارروائی"، میں کہا گیا ہے کہ متعدد نامعلوم افراد نے باسل، برن اور زیورخ میں وفاقی استغاثہ اور کینٹونل حکام کے ساتھ الزامات کا مقدمہ دائر کیا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مدعیان اقوامِ متحدہ کی بین الاقوامی عدالت انصاف کے سامنے جنوبی افریقہ کے پیش کردہ مقدمے کے متوازی طور پر فوجداری مقدمہ چلانے کا مطالبہ کر رہے تھے جس میں اسرائیل پر غزہ جنگ میں نسل کشی کا الزام لگایا گیا ہے۔

استثنیٰ کے مسئلے پر بات کرتے ہوئے بیان میں تجویز کیا گیا کہ اسے "کچھ خاص حالات میں" بشمول انسانیت کے خلاف مبینہ جرائم کے مقدمات میں اٹھایا جا سکتا ہے اور مزید کہا، "یہ شرائط اس معاملے میں پوری ہو جاتی ہیں۔"

جنوبی افریقہ نے اس ماہ دی ہیگ میں آئی سی جے (بین الاقوامی عدالتِ انصاف) میں ہنگامی کیس کا اس دلیل کے ساتھ آغاز کیا کہ اسرائیل نے 1948 کے اقوامِ متحدہ کے نسل کشی کنونشن کی خلاف ورزی کی ہے۔

جنوبی افریقہ نے ججز سے مطالبہ کیا کہ اسرائیل کو حکم دیں کہ وہ فلسطینی علاقے میں اپنی جارحیت روکے۔ اسرائیل نے اس مقدمے کی مذمت کرتے ہوئے اسے "مسخ شدہ" قرار دیا ہے۔

7 اکتوبر کو اسرائیل پر حماس کے حملوں کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے جس کے بعد سے لڑائی نے غزہ کی پٹی کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔

غزہ کی حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے مطابق اسرائیل نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے کم از کم 24,762 فلسطینیوں کو مار دیا جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین، بچے اور نوعمر تھے۔

اسحاق ہرتصوغ نے ڈیووس فورم کو بتایا کہ اسرائیل نے "ذاتی دفاع" میں اپنی مہم شروع کی اور جنوبی افریقہ کے معاملے کو "اشتعال انگیز" قرار دیتے ہوئے دوبارہ مذمت کی۔

انہوں نے کہا، "وہ (جنوبی افریقہ) بنیادی طور پر ان مظالم اور بربریت کی حمایت کرتے ہیں جو ہم نے 7 اکتوبر کو دیکھے ہیں،" اور مزید کہا کہ اسرائیل کو غزہ میں ہونے والی تباہی پر تشویش تھی۔

انہوں نے کہا، "ہمیں پروا ہے. یہ ہمارے لیے تکلیف دہ ہے کہ ہمارے ہمسایہ افراد اس قدر تکلیف میں ہیں۔"

انہوں نے کہا، "لیکن اگر ہمارے دشمنوں نے خود کو دہشت گردی کے ایک ناقابلِ یقین سائز اور دائرہ کار کے بنیادی ڈھانچے میں مورچہ بن کرنے کا فیصلہ کر لیا تو ہم اپنا دفاع اور کیسے کر سکتے ہیں؟"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں