یورپی یونین کی طرف سے حماس کی مالی معاونت کرنے پر چھ افراد پر پابندیاں عائد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یورپی یونین نے فلسطینی گروپ حماس کی مالی معاونت کے الزام میں چھ افراد کے اثاثے منجمد کرنے اور ویزا بلیک لسٹ میں شامل کر دیا۔

برسلز نے کہا کہ جن لوگوں پر پابندی لگائی گئی ہے ان میں حماس کے سرمایہ کاری دفتر کے ایک سینئر رکن موسیٰ دودن کے ساتھ سوڈان، لبنان اور الجزائر میں مقیم سرمایہ کار بھی شامل ہیں۔

یورپی یونین کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا، "ہم چھ افراد کی فہرست بنا رہے ہیں جو حماس کی مالی معاونت یا اس میں سہولت کاری میں حصہ لیتے رہے ہیں۔"

"ان کے یورپی یونین میں اثاثے منجمد کر دیئے جائیں گے اور ان پر ہمارے علاقے میں داخلے پر سفری پابندی ہو گی۔"

سرکاری اعداد و شمار پر مبنی اے ایف پی کی تعداد کے مطابق 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر اچانک حملے کے نتیجے میں اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہو گئے جن میں زیادہ تر عام شہری تھے۔ اس کے بعد سے یورپی یونین حماس پر اپنی پابندیاں بڑھا رہی ہے۔

حماس نے حملوں کے دوران تقریباً 250 افراد کو یرغمال بھی بنا لیا جن میں سے اسرائیل کے مطابق تقریباً 132 تاحال غزہ میں ہیں۔

اسرائیل نے جواب میں حماس کو "ختم" کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے اور حماس کے زیرِ انتظام وزارتِ صحت کے اعداد و شمار کے مطابق اس کے بے دریغ فضائی اور زمینی حملے میں کم از کم 24,762 فلسطینی جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین، بچے اور نوعمر ہیں۔

عسکریت پسند تحریک کے غزہ کے سیاسی سربراہ یحییٰ سنوار کو منگل کو یورپی یونین کی "دہشت گردوں" کی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا گیا۔

حماس پہلے ہی یورپی یونین کی طرف سے "دہشت گرد" تنظیم کے طور پر درج شدہ ہے۔

حماس کی مالی معاونت میں ملوث افراد پر پابندیاں اس وقت لگائی گئیں جب یورپی یونین کے وزرائے خارجہ پیر کو برسلز میں اسرائیل اور فلسطینی اتھارٹی کے ہم منصبوں کے ساتھ الگ الگ مذاکرات کرنے والے ہیں۔

سفارت کاروں نے کہا ہے کہ یورپی یونین کے ممالک مغربی کنارے میں "انتہا پسند" اسرائیلی آباد کاروں کے خلاف پابندیاں لگانے کے عمل میں بھی مصروف ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں