حوثی حملوں کی نگرانی کے لیے حزب اللہ کے کمانڈر یمن میں موجود ہیں: ذرائع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
9 منٹس read

چار علاقائی اور دو ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایران کے سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی اور لبنان کے حزب اللہ گروپ کے کمانڈر یمن کی سرزمین پر موجود ہیں جو بحیرۂ احمر کی جہاز رانی پر حوثیوں کے حملوں کی ہدایت اور نگرانی میں مدد کر رہے ہیں۔

چار علاقائی ذرائع نے بتایا کہ ایران - جس نے حوثیوں کو مسلح کیا، تربیت اور مالی امداد فراہم کی ہے - نے غزہ میں جنگ کے بعد ملیشیا کو اپنے ہتھیاروں کی فراہمی میں اضافہ کیا جو 7 اکتوبر کو ایرانی حمایت یافتہ حماس کے اسرائیل پر حملے کے بعد شروع ہوئی۔

ذرائع نے بتایا کہ تہران نے جدید ڈرونز، جہاز شکن کروز میزائل، درستگی سے مار کرنے والے بیلسٹک میزائل اور درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے میزائل حوثیوں کو فراہم کیے ہیں جنہوں نے نومبر میں غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنانا شروع کیا تھا۔

تمام ذرائع نے بتایا کہ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے کمانڈرز اور مشیران معلومات، ڈیٹا اور انٹیلی جنس معاونت بھی فراہم کر رہے ہیں تاکہ یہ تعین کیا جا سکے کہ روزانہ بحیرۂ احمر سے گذرنے والے درجنوں بحری جہازوں میں سے کون سے بحری جہازوں کی منزل اسرائیل ہے اور وہ حوثیوں کا ہدف بنتے ہیں۔

واشنگٹن نے گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ایران بحیرۂ احمر میں جہاز رانی کے خلاف کارروائیوں کی منصوبہ بندی میں گہرائی سے ملوث تھا اور بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے لیے حوثیوں کو اس کی انٹیلی جنس اہم تھی۔

اس کہانی پر تبصرے کی درخواست کے جواب میں وائٹ ہاؤس نے اپنے سابقہ عوامی تبصروں کی طرف اشارہ کیا کہ ایران کس طرح حوثیوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔

ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے اپنی ہفتہ وار نیوز کانفرنسوں میں بارہا تردید کی ہے کہ تہران حوثیوں کے بحیرۂ احمر کے حملوں میں ملوث ہے۔ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی (آئی آر جی سی) کے تعلقاتِ عامہ کے دفتر نے تبصرہ کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

حوثی ترجمان محمد عبدالسلام نے بحیرۂ احمر پر حملوں کی ہدایت کرنے میں ایرانی یا حزب اللہ کے ملوث ہونے کی تردید کی۔ حزب اللہ کے ترجمان نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔

ایک ایرانی اندرونی ذریعے نے رائٹرز کو بتایا، "پاسدارانِ انقلاب (جدید ہتھیاروں پر) فوجی تربیت کے ساتھ حوثیوں کی مدد کر رہے ہیں۔"

"حوثیوں کا ایک گروپ گذشتہ ماہ ایران میں تھا اور انہیں نئی ٹیکنالوجی اور میزائلوں کے استعمال سے واقف ہونے کے لیے وسطی ایران میں آئی آر جی سی کے ایک مرکز میں تربیت دی گئی تھی۔"

اس شخص نے کہا، ایرانی کمانڈروں نے یمن کا بھی سفر کیا تھا اور بحیرہ احمر پر حملوں کے لیے دارالحکومت صنعا میں ایک کمانڈ سینٹر قائم کیا تھا جسے یمن کے ذمہ دار سینئر کمانڈر آئی آر جی سی چلا رہے ہیں۔

علاقائی حکمتِ عملی

دو تجزیہ کاروں نے کہا کہ بحیرۂ احمر کے حملے ایران کی مسلح ملیشیا کے اپنے علاقائی شیعہ نیٹ ورک کو وسعت دینے اور متحرک کرنے کی حکمتِ عملی کے مطابق ہیں تاکہ وہ اپنا اثر و رسوخ پیش کر سکے اور خطے اور اس سے باہر سمندری سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت ظاہر کر سکے۔

انہوں نے کہا کہ تہران یہ ظاہر کرنا چاہتا تھا کہ غزہ کی جنگ اگر آگے بڑھے تو مغرب کے لیے بہت مہنگی ہو سکتی ہے - اور کشیدگی میں اضافے سے اس کے خطے میں تباہ کن نتائج ہو سکتے ہیں۔

گلف ریسرچ سنٹر کے تھنک ٹینک کے ڈائریکٹر عبدالعزیز السیگر نے اس گروپ کی صلاحیتوں کے قریبی تجزیے پر اپنا نتیجہ اخذ کیا جس میں ایک اندازے کے مطابق 20,000 مزاحمت کار ہیں اور کہا، "حوثی آزادانہ طور پر کام نہیں کر رہے ہیں۔"

"حوثی اپنے اہلکاروں، مہارت اور صلاحیتوں کے ساتھ اتنے ترقی یافتہ نہیں ہیں۔ روزانہ درجنوں بحری جہاز باب المندب سے گزرتے ہیں۔ حوثیوں کے پاس مخصوص ہدف تلاش کرنے اور حملے کرنے کے ذرائع، وسائل، علم یا سیٹلائٹ معلومات نہیں ہیں۔"

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کی ترجمان ایڈرین واٹسن نے بھی گذشتہ ماہ کہا تھا کہ ایرانی فراہم کردہ حکمتِ عملی حوثیوں کو بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے قابل بنانے میں اہم رہی ہے۔

یمنی فوج کے دو سابق ذرائع کے مطابق یمن میں پاسدارانِ انقلاب اور حزب اللہ کے ارکان کی واضح موجودگی ہے۔ دونوں افراد نے کہا کہ وہ فوجی کارروائیوں کی نگرانی، تربیت اور میزائلوں کو دوبارہ جوڑنے کے ذمہ دار ہیں جو یمن میں الگ الگ ٹکڑوں کے طور پر سمگل کیے جاتے ہیں۔

ایک آزاد تھنک ٹینک صنعا سینٹر فار سٹریٹیجک اسٹڈیز کے ایک سینئر محقق عبدالغنی الاریانی نے کہا: "یہ واضح بات ہے کہ ہدف اور منزل کی شناخت میں ایرانی مدد کر رہے ہیں۔ مقامی حوثیوں میں ایسا کرنے کی صلاحیت نہیں ہے۔"

ایران کی پیروی کرنے اور نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کرنے والے ایک سینئر علاقائی ذریعے نے کہا: "سیاسی فیصلہ تہران میں ہوتا ہے، انتظام حزب اللہ کا اور مقام یمن کے حوثی ہیں۔"

ہتھیار اور صلاح مشورہ

حوثی ترجمان عبدالسلام نے کہا کہ اس گروپ کا مقصد بغیر کسی انسانی یا اہم مادی نقصان کے اسرائیل جانے والے اسرائیلی جہازوں کو نشانہ بنانا تھا۔ انہوں نے کہا، یمن پر امریکی اور برطانوی حملے انہیں پیچھے ہٹنے پر مجبور نہیں کر سکتے۔

انہوں نے کہا، "ہم اس بات سے انکار نہیں کرتے کہ ہمارے ایران کے ساتھ تعلقات ہیں اور ہم نے تربیت اور فوجی تیاری اور صلاحیتوں میں ایرانی تجربے سے فائدہ اٹھایا ہے لیکن یمن کا فیصلہ ایک آزاد فیصلہ ہے جس کا کسی دوسرے فریق سے کوئی تعلق نہیں ہے۔"

لیکن ایران کے ایک قریبی سکیورٹی اہلکار نے کہا: "حوثیوں کے پاس ڈرون، میزائل اور اسرائیل کے خلاف جنگ کے لیے درکار ہر چیز موجود ہے لیکن انھیں نقل و حمل کے راستوں اور بحری جہازوں کے بارے میں رہنمائی اور مشورے کی ضرورت تھی اس لیے یہ انھیں ایران نے فراہم کیا ہے۔"

تہران کس قسم کا مشورہ دے رہا ہے، اس سوال پر انہوں نے کہا کہ یہ شام میں ایران کی طرف سے کیے گئے مشاورتی کردار سے ملتا جلتا ہے جس میں تربیت سے لے کر کارروائیوں کی حسبِ ضرورت نگرانی کرنا شامل ہے۔

سیکورٹی اہلکار نے کہا، "ایرانی گارڈز کے ارکان کا ایک گروپ اب صنعا میں ہے تاکہ کارروائی میں مدد کی جا سکے۔"

تربیت اور آراستگی

ایران نواز گروپوں کے اتحاد میں شامل ایک رہنما نے اس بات کی تردید کی کہ ابھی یمن میں آئی آر جی سی یا حزب اللہ کا کوئی کمانڈر موجود تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی اور حزب اللہ کے عسکری ماہرین کی ایک ٹیم خانہ جنگی کے شروع میں یمن گئی تھی تاکہ حوثیوں کی تربیت، سازوسامان اور فوجی صلاحیت کو تیار کیا جا سکے۔

انہوں نے کہا، "وہ آئے، حوثیوں کی مدد کی اور چلے گئے جیسا کہ انہوں نے حزب اللہ اور حماس کے ساتھ کیا،" اور مزید کہا کہ حوثیوں کی فوجی صلاحیتوں کو کم نہیں سمجھا جانا چاہیے۔

اس شخص نے کہا کہ حوثی علاقے اور سمندر کو اچھی طرح جانتے ہیں اور ان کے پاس پہلے سے ہی بحری جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے نظام موجود تھا جس میں ایران کا اعلیٰ درستگی کا فوجی سامان بھی شامل ہے۔

تجزیہ کاروں نے کہا، جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا تو ایران کے پاس فلسطینی گروپ کی حمایت کا مظاہرہ کرنے کے سوا کوئی چارہ نہ تھا لیکن وہ فکر مند تھا کہ حزب اللہ کو استعمال کرنے سے بڑے پیمانے پر اسرائیلی انتقامی کارروائیاں شروع ہو جائیں گی۔

صنعاء سینٹر فار اسٹریٹجک اسٹڈیز میں اریانی نے کہا، اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک بڑی جنگ لبنان کے لیے تباہ کن ہوگی - اور اس گروپ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دے گی جو ایران کے "محورِ مزاحمت" میں اہم ترین بن چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حوثی اس کے برعکس بہت کم کوشش کے ساتھ عالمی سمندری سرگرمیوں میں خلل پیدا کر کے بہت بڑا اثر کرنے کی ایک منفرد تزویراتی پوزیشن میں تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں