ایرانی فوجی کی ہم کاروں پر فائرنگ میں پانچ فوجی مارے گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایک ایرانی فوجی نے گذشتہ روز جنوب مشرقی شہر کرمان میں اپنے ساتھی فوجیوں پر فائرنگ کرکے کم از کم فوجیوں کو ہلاک کر دیا ہے۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق مذکورہ فوجی نے بیرک کے ہاسٹل میں پہنچ کر آرام کر تے ہوئے فوجیوں پر فائرنگ کردی، ٹی وی رپورٹ کے مطابق مشتبہ فوجی کی جان لیوا فائرنگ کا مقصد فوری طور پر واضح نہیں ہو سکا ہے، حملہ آور فوجی کی شناخت سمیت کوئی اور تفصیلات جاری نہیں کی گئی ہیں۔

ایرانی فوجیوں پر فائرنگ کا یہ منفرد واقعہ دارالحکومت تہران کے جنوب مشرق میں 830 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر کرمان میں پیش آیا ہے، جہاں اس ماہ کے شروع میں ایک بم حملے میں 94 افراد مارے گئے تھے۔

غیرملکی میڈیا کے مطابق جان لیوا فائرنگ کا واقعہ ایران کے صوبے کرمان کے فوجی اڈے پر پیش آیا،جس کے بعد فائرنگ کرنے والے فوجی اہلکار کی تلاش جاری ہے۔

اس ماہ کے شروع میں کرمان میں دو مہلک دھماکے ہوئے تھے، جس میں عراق میں 2020 میں امریکی ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کی برسی کی تقریب کے دوران 94 افراد ہلاک اور سیکڑوں دیگر زخمی ہوگئے تھے، ان بم دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔

ایران میں 19 سال یا اس سے زیادہ عمر کے مردوں کے لیے 24 ماہ تک کی فوجی خدمات لازمی ہیں، ایران میں فوجی اڈوں پر اسی نوعیت کی فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوتے رہے ہیں۔

2022 میں ایک ایرانی فوجی نے ملک کے جنوب میں سڑک کے کنارے ایک پولیس اسٹیشن میں دوسرے فوجی اور تین پولیس اہلکاروں کو ہلاک کر دیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں