’ملازمت برقراررکھنی ہےتو شادی کریں‘ طالبان کی افغان خواتین پر پابندیوں میں کیا نیا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

سوموارکو شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق طالبان نے افغان خواتین کی کام، سفر اور صحت کی دیکھ بھال تک رسائی پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ ان پابندیوں میں ایسی خواتین کو شامل کیا گیا ہےجو غیر شادی شدہ ہیں یا ان کا کوئی سرپرست نہیں ہے۔

منسٹری فار پروموشن آف ورٹیو اینڈ پریوینشن آف وائس کے عہدیداروں نے ایک عورت کومشورہ دیا کہ اگر وہ صحت کی دیکھ بھال کی سہولت میں اپنی ملازمت برقرار رکھنا چاہتی ہے تو اسے شادی کرنا ہوگی کیوں کہ غیر شادی شدہ خواتین کے لیے یہ نا مناسب ہے کہ وہ ملازمت کریں۔

ابتدائی طور پر زیادہ اعتدال پسند حکمرانی کا وعدہ کرنے کے باوجود طالبان نے 2021ء میں اقتدار سنبھالنے کے بعد نافذ کیے گئے سخت اقدامات کےتحت عوامی زندگی کے بیشتر شعبوں میں خواتین پر پابندی عائد کر دی ہے اور چھٹی جماعت کے بعد لڑکیوں کے سکول جانے پر پابندی لگا دی ہے۔

طالبان نے بیوٹی سیلون کو بھی بند کر دیا اور ڈریس کوڈ نافذ کرنا شروع کر دیا۔ حجاب کی پابندی نہ کرنے والی خواتین کو گرفتار کرنا شروع کر دیا۔ مئی 2022ء میں طالبان نے ایک حکم نامہ جاری کیا جس میں خواتین سے صرف آنکھیں ظاہر کرنےکی اپیل کی گئی تھی اور یہ سفارش کی گئی تھی کہ وہ سر سے پاؤں تک برقع پہنیں۔ اس کے لیے انہوں نے 1996ء اور 2001ء کے درمیان طالبان کے سابقہ دور حکومت کے دوران لگائی گئی پابندیوں کی مثال دی تھی۔

اپنی تازہ ترین سہ ماہی رپورٹ میں گذشتہ سال اکتوبر سے دسمبر تک کے عرصے کو شامل کیا گیا ہے۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے مشن نے کہا کہ طالبان افغان خواتین کے خلاف کریک ڈاؤن کر رہے ہیں۔ کنواری اور غیر شادی شدہ خواتین یا محرم سرپرست کے بغیرملازمت کرنے والی خواتین کو نوکری سے ہٹایا جاتا ہے۔

افغانستان میں مرد کی سرپرستی کے حوالے سے کوئی سرکاری قوانین موجود نہیں ہیں، تاہم طالبان نے کہا ہے کہ خواتین محرم کے بغیر ایک مخصوص فاصلہ طے نہیں کر سکتیں اور نہ ہی سفر کر سکتی ہیں۔

تین خواتین ہیلتھ کیئر ورکرز کو اکتوبر میں اس لیے گرفتار کیا گیا تھا کہ وہ کسی مرد رشتہ دار کے بغیر کام پر جا رہی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ان کے اہل خانہ کی جانب سے اس فعل کو نہ دہرانے کے تحریری عہد پر دستخط کرنے کے بعد انہیں رہا کیا گیا۔

صوبہ پکتیا میں شعبہ امربالمعروف اور نہی عن المنکر نے دسمبر سے محرم کے بغیر خواتین کو صحت کی سہولیات تک رسائی سے روک دیا ہے۔

وزارت امر بالمعروف جو طالبان کے لیے اخلاقی پولیس کے طور پر کام کرتی ہے عوامی مقامات، دفاتر اور تعلیمی اداروں میں آنے والی خواتین کے حجاب اور محرم کو یقینی بنانے پر زور دیتی ہے۔

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق صوبہ قندھار میں طالبان حکام نے دسمبر میں ایک بس سٹیشن کا دورہ کیا تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ خواتین کسی مرد رشتہ دار کے بغیر طویل فاصلے کا سفر نہیں کر رہی ہیں۔انہوں نے بس ڈرائیوروں کو ہدایت کی کہ وہ خواتین کو کسی مرد رشتہ دار کے بغیر سواری کرنے کی اجازت نہ دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں