امریکا، برطانیہ اور آسٹریلیا نے تحریک حماس پر نئی پابندیاں عائد کر دیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی محکمہ خزانہ کی ویب سائٹ پر بتایا گیا ہے کہ امریکا نے سوموار کو حماس سے منسلک افراد اور عراقی فلائی بغداد ایئر لائن سے منسلک افراد پر نئی پابندیاں عاید کی گئی ہیں۔

امریکی محکمہ خزانہ کے بیرون ملک اثاثہ جات کے کنٹرول کے دفتر نے 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی کے آس پاس کی بستیوں پر ہونے والے حملے کے بعد حماس پر پابندیوں کے پانچویں دور کے نفاذ کا اعلان کیا۔

دفتر نے ایک بیان میں کہا ہے کہ آج کی پابندیوں میں برطانیہ اور آسٹریلیا کی طرف سےبھی پابندیاں شامل ہیں۔

ان پابندیوں میں غزہ میں حماس کے مالیاتی نیٹ ورکس کو نشانہ بناتی ہیں اور ان میں ایسے افراد شامل ہیں جنہوں نے قدس فورس سے اسلامی جہاد اور حماس کو کرپٹو کرنسی کی منتقلی سمیت رقوم کی منتقلی میں کلیدی کردار ادا کیا تھا۔

محکمہ خزانہ نے کہا کہ پابندیوں میں عراقی گروپ کتائب حزب اللہ اور فلائی بغداد ایئرلائنز کمپنی کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے جن پر ایرانی پاسداران انقلاب کی قدس فورس کی مبینہ مدد کرنے پر پابندیاں لگائی گئی ہیں۔

محکمہ خزانہ کے فارن اثاثہ جات کے کنٹرول کے دفتر نے عراق میں ایران سے منسلک ملیشیا کتائب حزب اللہ کے تین رہ نماؤں اور ان کے حامیوں کے ساتھ ساتھ ایک کمپنی کو نامزد کیا ہے جس پر ملیشیاؤں کے لیے پیسہ منتقل کرنے کا الزام ہے۔

پابندیاں امریکی جائیدادوں اور بینک اکاؤنٹس تک رسائی کو روکتی ہیں اور ہدف بنائے گئے لوگوں اور کمپنیوں کو امریکیوں کے ساتھ معاملات کرنے سے روکتی ہیں۔

برطانیہ نے پیر کے روز حماس تحریک سے منسلک افراد پر پابندیاں عائد کیں، جن میں تحریک کے فنانسرز اور رہ نما شامل ہیں۔ ان اقدامات سےحماس کو ایران سمیت دیگر گروپوں سے فنڈنگ کے ذرائع کو منقطع کرنے میں مدد ملے گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں