مشرق وسطیٰ

ایرانی صدر ترکیہ میں ہم منصب ایردوآن سے اسرائیل-حماس جنگ پر تبادلہ خیال کریں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ایک سفارتی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اسرائیل اور حماس جنگ کے علاقائی اثرات پر بات چیت کے لیے بدھ کو ترکیہ کا ایک روزہ سرکاری دورہ کریں گے۔

رئیسی دارالحکومت انقرہ میں ترک ہم منصب رجب طیب ایردوآن سے ملاقات کریں گے جن کا دورہ شرقِ اوسط میں بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے دو بار ملتوی ہوا - ایک بار نومبر میں اور ایک بار اس ماہ کے شروع میں۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ’ایرنا‘ کے مطابق صدر رئیسی ایک اعلیٰ اختیاراتی سیاسی اور اقتصادی وفد کی قیادت کریں گے۔

یہ دورہ غزہ میں جنگ کے علاقائی اثرات کے بارے میں بڑھتے ہوئے خدشات کے تناظر میں ہو رہا ہے جو سات اکتوبر کو حماس کے غیر معمولی حملوں کے بدلے میں اسرائیل نے شروع کی تھی۔ حماس کے حملے کے نتیجے میں سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اسرائیل میں تقریباً 1,140 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

حماس کے زیرِ انتظام علاقے کی وزارتِ صحت کے مطابق اس کے جواب میں اسرائیلی حملوں میں غزہ میں کم از کم 25,490 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں جن میں سے تقریباً 70 فیصد خواتین، بچے اور نوعمر تھے۔

ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے پیر کے روز اس عزم کا اظہار کیا کہ اسرائیل شام میں پاسدارانِ انقلاب کے ایک سینئر جنرل کے قتل کی "یقینی قیمت ادا کرے گا"۔

بحیرۂ احمر کی جہاز رانی پر ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں کے بار بار حملوں کے جواب میں امریکہ اور برطانیہ نے منگل کو یمن پر مشترکہ فوجی حملوں کا دوسرا دور شروع کیا۔

ایردوآن نے اس ماہ کے اوائل میں حملوں کے پہلے دور کو "غیر متناسب" قرار دیتے ہوئے مذمت کی اور واشنگٹن اور لندن پر الزام لگایا کہ وہ بحیرۂ احمر کو "خون کی ہولی" میں تبدیل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں