پاک-افغان طورخم سرحد 10 روزہ بندش کے بعد تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھل گئی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

پاکستان اور افغانستان کے درمیان طورخم سرحدی گزرگاہ 10 روز بعد درآمد اور برآمد سے متعلق تجارتی سرگرمیوں کے لیے کھول دی گئی ہے۔

اطلاعات کے مطابق منگل کی صبح افغانستان سے پہلی تجارتی گاڑی پاکستان کی حدود میں داخل ہوگئی ہے۔

دونوں ممالک کے درمیان ڈرائیوروں کی سفری دستاویزات کے معاملے پر تنازع کی وجہ سے طورخم سرحد گزشتہ 10 روز سے بند تھی جس کی وجہ سے تاجروں کو شدید نقصان پہنچ رہا تھا۔

حکومتِ پاکستان نے افغانستان سے آنے والی کارگو گاڑیوں کے لیے سفری دستاویزات کا فیصلہ کیا تھا جب کہ افغان تاجر اس فیصلے سے ناخوش تھے۔

شنید ہے کہ افغان قونصل جنرل اور پاکستان حکام کے درمیان طے پایا ہے کہ افغان ڈرائیوروں کو سفری دستاویزات بنانے کے لیے 31 مارچ تک کی مہلت دی جائے گی۔

حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ یکم اپریل کے بعد بغیر دستاویزات کارگو گاڑیوں کا افغانستان سے پاکستان میں داخلہ ممنوع ہو گا۔

واضح رہے کہ دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کشیدہ ہیں۔ پاکستان یہ الزام عائد کرتا رہا ہے کہ افغان سر زمین پاکستان میں دہشت گردوں کے حملوں کے لیے استعمال ہو رہی ہے تاہم افغانستان میں برسرِ اقتدار طالبان ان الزامات کی تردید کرتے ہیں۔

پاکستان کے نگراں وزیرِ برائے اطلاعات ونشریات مرتضیٰ سولنگی کا کہنا ہے کہ اسلام آباد اور کابل کے مستقبل کے تعلقات کا دار ومدار طالبان حکومت کے رویے پر منحصر ہے۔

ایک حالیہ انٹرویو میں مرتضیٰ سولنگی نے الزام عائد کیا تھا کہ جب تک طالبان حکومت دہشت گرد عناصر بشمول تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے جنگجوؤں کو پناہ دیتی رہے گی تب تک تعلقات میں بہتری ممکن نہیں ہو سکتی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں