بائیڈن کو نیا چیلنج: ٹرمپ نیو ہیمپشائر پرائمری بھی جیت گئے

رپبلکن پارٹی میں جاری صدارتی امیدوار کی دوڑ میں ٹرمپ کو 54.2 فیصد اور ان کی حریف نکی ہیلی کو 43.7 فیصد ووٹ ملے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکہ میں رواں برس ہونے والے صدارتی انتخابات کے لیے نامزدگی کی دوڑ میں شامل ری پبلکن امیدوار اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اور اہم کامیابی حاصل کر لی ہے۔

ٹرمپ نے منگل کو ریاست نیو ہیمپشر میں ری پبلکن پرائمری مقابلے میں مدِ مقابل نکی ہیلی کو شکست دے کر پارٹی میں اپنی پوزیشن کو مزید مستحکم کر لیا ہے۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق پرائمری میں شامل 22 فی صد علاقے کی رپورٹنگ کے ساتھ ٹرمپ نے 38 ہزار 755 ووٹ حاصل کیے جب کہ نکی ہیلی 34 ہزار 444 ووٹ حاصل کر سکیں۔

نیو ہیمپشر مقابلے سے قبل فلوریڈا کے گورنر رون ڈی سینٹس ٹرمپ کے حق میں دست بردار ہوگئے تھے۔ لیکن ان کا نام بیلٹ پر ہونے کی وجہ سے انہیں 442 ووٹ ملے۔

نیو ہیمپشر پرائمری میں شکست کے باوجود نکی ہیلی نے صدارتی نامزدگی کی دوڑ میں رہنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورِ صدارت میں نکی ہیلی اقوامِ متحدہ میں بطور امریکی سفیر تعینات تھیں۔

اے پی کے مطابق اس بات کا امکان ہے کہ کچھ ری پبلکنز نکی ہیلی سے پرائمری دوڑ سے باہر ہونے کا مطالبہ کریں گے۔ تاہم نکی ہیلی کی مہم نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ وہ پانچ مارچ کو سپر منگل تک دوڑ میں شامل رہیں گی جب 16 ریاستیں ایک ہی دن ووٹ ڈالیں گی۔

واضح رہے کہ امریکہ میں صدارتی امیدوار کے لیے دونوں بڑی سیاسی جماعتیں انٹرا پارٹی انتخابات کے ذریعے صدارتی امیدوار نامزد کرتی ہیں جنہیں مقامی سطح پر پرائمری کہا جاتا ہے۔

ڈیموکریٹ پارٹی بھی ریاست نیو ہیمپشر میں منگل کو پرائمری الیکشن کر رہے ہیں، لیکن صدر جو بائیڈن کا نام ان کے بیلٹ پر ظاہر نہیں ہے۔

غالب امکان ہے کہ صدر بائیڈن ہی ڈیمو کریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار ہوں گے۔ یوں بائیڈن اور ٹرمپ سال 2020 کے الیکشن کی طرح اس سال پانچ نومبر کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں دوبارہ ایک دوسرے کے مدِ مقابل ہوسکتے ہیں۔
وائٹ ہاؤس میں ایک ہی مدت پوری کرنے والے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو 2020 کے صدارتی انتخابات میں جو بائیڈن کے ہاتھوں شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تاہم ٹرمپ ایک مرتبہ پھر انتخابات میں ری پبلکن جماعت کی جانب سے صدارتی نامزدگی حاصل کرنے کے خواہش مند ہیں۔ انہیں منگل کی پرائمری سے پہلے ری پبلکنز میں اپنے پارٹی حریفوں پر خاصی برتری حاصل تھی۔

اے پی کے مطابق اگر ری پبلکن پارٹی کی جانب سے صدارتی نامزدگی کا حتمی نتیجہ ٹرمپ کے حق میں ہوا تو وہ ری پبلیکن پارٹی کی تیسری مرتبہ صدارتی الیکشن کے لیے نامزدگی حاصل کرلیں گے۔ وہ ری پبلکن پارٹی کے امیدوار کی حیثیت سے سال 2016 کے انتخاب میں کامیابی حاصل کر کے صدارت کے عہدے پر فائز ہوئے تھے۔

دوسری طرف ہیلی نے گزشتہ ہفتے مڈ ویسٹرن فارم اسٹیٹ آئیووا میں ری پبلکن کاکس میں ٹرمپ کے مقابلے میں تیسری پوزیشن حاصل کی تھی۔

باون سالہ سیاست دان ہیلی نے پیر کے روز ایک انتخابی ریلی میں یہ دعویٰ کیا تھا کہ 77 سال کی عمر میں ٹرمپ اپنی ذہنی نفاست کھو چکے ہیں اور یہ کہ ٹرمپ اور 81 سالہ بائیڈن دونوں ہی چار سالہ صدارتی مدت کو نبھانے کے حوالے سے بہت بڑی عمر کے ہیں۔

اس سال نومبر کے الیکشن کے بعد امریکہ کی صدارتی مدت جنوری 2025 میں شروع ہو گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں