ترکیہ نے سویڈن کی نیٹو میں بطور رکن شمولیت کی توثیق کر دی

انقرہ کی توثیق کے بعد اب سویڈن کے مغربی فوجی اتحاد میں شامل ہونے کی راہ میں صرف ہنگری کی رکاوٹ رہ گئی ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

ترکیہ کی پارلیمنٹ نے تنظیم معاہدہ شمالی اوقیانوس (نیٹو) میں سویڈن کی شمولیت کی توثیق کر دی۔

امید ہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن چند دنوں میں اس پر دستخط کردیں گے، جس کے بعد ہنگری نیٹو کا واحد رکن ملک رہ جائے گا جس نے سویڈن کی رکنیت کی منظوری نہیں دی ہے۔ کسی نئے ملک کو نیٹو کا رکن بنانے کے لیے اس کے تمام اراکین کی جانب سے منظوری لازمی ہے۔

ایردوآن نے اس سے قبل سویڈن کی جانب سے رکنیت کی کوششوں کی مخالفت کی تھی، جس کی وجہ سے اس اسکینڈنیویائی ملک کے نیٹو میں شمولیت پرشبہات پیدا ہو گئے تھے۔ تاہم گزشتہ موسم گرما میں ایردوآن نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے سویڈن کو نیٹو کا رکن بنانے کا عندیہ دیا تھا۔

یاد رہے کہ ایردوآن کی جانب سے تائید مل جانے کے بعد ترک قانون سازوں نے سویڈن کے نیٹو کی رکنیت کی تجویز کو پارلیمنٹ میں 55 کے مقابلے 287 ووٹوں سے منظوری دے دی۔ اس طرح سویڈن کے اس مغربی فوجی اتحاد کا 32 واں رکن بننے کی راہ مزید ہموار ہوگئی ہے۔

سویڈن کے وزیر اعظم الف کرسٹرسن نے اس پیش رفت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا، "آج ہم نیٹو کا مکمل رکن بننے کے ایک قدم اور قریب پہنچ گئے ہیں۔"

نیٹو کے سربراہ جینز اسٹولٹن برگ نے ترکیہ کی جانب سے سویڈن کی فوجی اتحاد کی رکنیت کی توثیق کا خیر مقدم کیا اور کہا کہ "انہیں امید ہے کہ ہنگری بھی جلد از جلد اس کی قومی توثیق کا عمل مکمل کرلے گا۔"

جرمن حکومت نے کہا کہ ترک پارلیمنٹ کی جانب سے نیٹو میں سویڈن کی رکنیت کی منظوری "ایک اہم اور درست فیصلہ "ہے۔ جرمن حکومت کے ترجمان اسٹیفن ہیبسٹریٹ نے کہا،" سویڈن کا نیٹو میں الحاق، جس طرح فن لینڈ کا الحاق مکمل ہوچکا ہے، شمالی بحر اوقیانوس اتحاد کو مزید مستحکم کرے گا۔" انہو ں نے مزید کہا کہ "جرمن حکومت کا خیال ہے کہ الحاق کا عمل اب تیزی سے مکمل کیا جاسکتا ہے۔"

امریکہ نے بھی اس اقدام کی تعریف کی۔ امریکہ کے قومی سلامتی کے مشیر جیک سلیوان نے ایکس پر لکھا،"ہم ترک پارلیمنٹ کی جانب سے سویڈن کی نیٹو میں شمولیت کی درخواست کی منظوری کا خیر مقدم کرتے ہیں۔"انہوں نے مزید کہا کہ سویڈن اس اتحاد کو "محفوظ اور مضبوط" بنائے گا۔

خود کو ناوابستہ قرار دینے والے سویڈن اور فن لینڈ نے یوکرین کے خلاف روس کی جنگ کے بعد سن 2022 میں نیٹو میں شمولیت کی درخواست دی تھی۔ فن لینڈ نے گزشتہ سال اپریل میں مغربی فوجی اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی تھی۔ اس کی شمولیت سے اتحاد کی زمینی سرحدوں میں اضافہ ہوا ہے۔

تاہم ترکیہ اور ہنگری سویڈن کی رکنیت کے سلسلے میں اپنی منظوری دینے میں تاخیر کرتے رہے۔ انہوں نے اس سلسلے میں اپنے ویٹو اختیارات بھی استعمال کیے۔ نیٹو میں رکنیت کے ضابطوں کے مطابق نئے ملک کو رکن بنانے کے لیے اسے تمام رکن ممالک کی منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔

ایردوآن سویڈن پر یہ دباو ڈالنے میں کامیاب رہے کہ وہ اپنے ملک میں مقیم کرد عسکریت پسندگروپوں کے خلاف سخت موقف اپنائے، جنہیں انقرہ "دہشت گرد" قرار دیتا ہے۔ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹراوربان نے اپنے سویڈش ہم منصب کو اس معاملے پر بات چیت کے لیے بوداپسٹ مدعو کیا ہے۔

لیکن سویڈن کے وزیر خارجہ ٹوبیاس بل سٹروم کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے ملک کی نیٹو کی رکنیت کے حوالے سے ہنگری کے ساتھ اس وقت بات چیت کرنے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔

سویڈن کے مغربی فوجی اتحاد میں شمولیت کے بعد، روسی ساحل اور کالینن گراڈ کو چھوڑ کر پورا بالٹک ساحلی علاقہ نیٹو کے دائرہ کار میں آجائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں