مالی بحران: اخبار لاس اینجلس ٹائمز نے 20 فیصد سے زائد عملہ فارغ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز کے نیوز روم میں چھانٹیوں کا ایک تکلیف دہ دور شروع ہوا، عملے میں یہ کمی اخبار کی 142 سالہ تاریخ میں سب سے زیادہ ہے۔

چھانٹی سے کم سے کم 115 صحافی متاثر ہوں گے؛ جو نیوز روم کے 20 فیصد سے کچھ زیادہ ہے۔

اخبار کی سینئر قیادت نے اس عمل کا محرک"مالی بحران" کو بیان کیا ہے۔

متوقع چھانٹی کے خلاف اخبار کی یونین ایل اے ٹائمز گلڈ نے گزشتہ جمعہ کو احتجاج کیا تھا۔

میڈیا گلڈ آف ویسٹ کے صدر میٹ پیئرس نے منگل کو "سیاہ دن" قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ ان میں سے تقریباً 94 کٹوتیاں یونین کے ملازمین میں ہوں گی۔

لاس اینجلس ٹائمز، جو بایوٹیک ارب پتی ڈاکٹر پیٹرک سون-شیونگ کی ملکیت ہے۔ سون-شیونگ نے بتایا کہ کٹوتیاں ضروری ہیں کیونکہ اخبار کو ہر سال 30 سے 40 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔

"آج کا فیصلہ سب کے لیے تکلیف دہ ہے، لیکن یہ ضروری ہے کہ ہم فوری طور پر کام کریں اور اگلی نسل کے لیے ایک پائیدار اور فروغ پزیر پرچہ بنانے کے لیے اقدامات کریں،"

یونین نے ایک بیان میں کہا، "یہ عملہ کٹوتی برسوں کی درمیانی حکمت عملی، پبلشر کی عدم موجودگی اور کوئی واضح سمت نہ ہونے کا نتیجہ ہے۔"

عملے میں کمی کے رجحان نے پچھلے سال کے دوران خبر کی صنعت کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ، این پی آر، سی این این اور ووکس میڈیا ان بہت سی کمپنیوں میں شامل ہیں۔

چیلنجر، گرے اور کرسمس کی روزگار فرم کے مطابق، نومبر کے آخر تک نیوز انڈسٹری کی 2,681 ملازمتیں ختم ہو گئیں۔ یہ 2022 اور 2021 سے زیادہ ہے۔

لاس اینجلس ٹائمز، جسے حالیہ ہفتوں میں ایک بڑے مالیاتی خسارے کا سامنا ہے، کے اعلیٰ ایڈیٹر کیون میریڈا نے اس ماہ کے آغاز پر اچانک علاحدگی کا اعلان کر دیا۔

یونین کے صدر پیئرس نے کہا کہ یونین کی بارگیننگ کمیٹی بدھ کو ٹائمز کی انتظامیہ سے ملاقات کرے گی تاکہ معاہدے کے مطابق برطرفی کے بارے میں بات چیت شروع کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں