ہماری جنگ یمن کے خلاف نہیں بلکہ ہم حوثیوں کے خلاف اقدامات کر رہے ہیں:امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ کے علاقائی ترجمان سیموئیل واربرگ نے زور دے کر کہا ہے کہ ان کا ملک اور اس کے اتحادی یمن کے خلاف جنگ نہیں لڑ رہے ہیں بلکہ انہوں نے عالمی تجارتی بحری جہازوں پر غیر قانونی حملوں کے لیے حوثیوں کو جوابدہ ٹھہرانے کے لیے اقدامات کیے ہیں۔انہوں نے ایرانی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے کے لیے اپنے ایجنٹوں کواستعمال کررہی ہے۔

واربرگ نے منگل کو عرب ورلڈ نیوز ایجنسی کو بتایا کہ "امریکہ اور اس کے اتحادی اور شراکت دار یمن کے خلاف ایک ملک کے طور پر یمنی عوام کے خلاف، یا خطے کے خلاف کوئی جنگ یا فوجی کارروائی شروع نہیں کر رہے ہیں۔ ہمارے تمام اقدامات یمن کے خلاف نہیں ہیں۔ امریکا نے بہت سے ممالک کے ساتھ مل کر حوثی گروپ کو اس کی وجہ سے جوابدہ ٹھہرایا۔

حوثیوں کے ساتھ جنگ میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں ہے

واربرگ نے اس بات کی تردید کی کہ امریکا حوثی گروپ کے خلاف حالت جنگ میں ہے۔انہوں کہا کہ "جو کچھ ہو رہا ہے وہ امریکا اور حوثی گروپ کے درمیان جنگ نہیں ہے۔امریکا کا حوثیوں کے خلاف جنگ میں داخل ہونے یا جنگ چھیڑنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے‘‘۔

انہوں نے مزید کہا کہ "امریکا خطے اور پوری دنیا کے بہت سے ممالک کے ساتھ مل کر عالمی تجارت کے تحفظ، جہازوں کے عملے کی حفاظت، امریکی جہازوں، تجارت اور امریکی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کر رہا ہے"۔

واربرگ نے ایرانی حکومت پر حوثی گروپ، حزب اللہ اور حماس کی حمایت کرنے کا الزام لگایا۔ اس نے کہا کہ تہران دوسرے ایجنٹوں کو فنڈز فراہم کرتا ہے جو خطے میں عدم استحکام پیدا کرنے والی سرگرمیاں کرتے ہیں۔

بین الاقوامی تجارتی جہاز اسرائیلی نہیں

واربرگ نے کہا کہ حوثیوں نے بین الاقوامی تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا، اسرائیلیوں کو نہیں۔ انہوں نے کہا کہ "جب سے حوثی گروپ نے دو ماہ قبل عالمی تجارتی جہازوں پر یہ میزائل حملے شروع کیے ہیں، ہمارے پاس بہت واضح ثبوت اور تفصیلات ہیں کہ وہ اسرائیل ہی نہیں بلکہ 50 ممالک کے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی "ایک ملک ہے جو جہاز کا مالک ہے اور دوسرا جو اس پر مصنوعات برآمد کرتا ہے، اور ایسی کمپنیاں ہیں جو انشورنس کا عمل انجام دیتی ہیں۔ ان جہازوں کے عملے کا تعلق 60 سے زائد ممالک سے ہے، اس لیے جو کچھ حوثی کہتے ہیں بالکل سچ نہیں ہے"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں