مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے پھیلنے کی ذمہ داری امریکا پر عاید ہوتی ہے: لاوروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے یمن پر حملوں کی وجہ سے مشرق وسطیٰ میں تنازع کی ممکنہ توسیع کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہرایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’’امریکا کو مشرق وسطیٰ میں تنازعات کے حل میں ایک ایماندار شریک کی حیثیت سے شامل ہونا چاہیے جو فلسطینی عوام کے مفادات کی ضمانت دے سکے‘‘۔

اس ماہ امریکا اور برطانیہ نے حوثیوں کے ٹھکانوں پر بار بار حملے کیے جس کا مقصد بحیرہ احمر میں نیویگیشن کے لیے خطرہ بننے اور عالمی تجارت کو نقصان پہنچانے کے لیے گروپ کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

دریں اثنا حوثیوں کا کہنا ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیےاسرائیلی کمپنیوں کے زیر ملکیت یا اسرائیل سے سامان لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

شام میں قتل و غارت بند کرو

روسی وزیر خارجہ نے سرگئی لاوروف نے دمشق میں پاسداران انقلاب کے کئی دفاتر کو تباہ کرنے کے بعد اسرائیل پر شام میں سیاسی قتل عام بند کرنے پر زور دیا۔

یہ بیان غزہ کی پٹی میں ساڑھے 3 ماہ قبل شروع ہونے والی اسرائیلی جنگ کے بعد قتل و غارت گری میں حالیہ اضافے کے ساتھ سامنے آیا ہے، جس نے اسرائیل اور ایران کے درمیان تنازعات کو ان دھڑوں کے ذریعے پھیلانے کے امکانات کو مزید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

برسوں سے اسرائیل نے شام میں ایران سے منسلک اہداف کے خلاف حملے کیے ہیں، جہاں 2011 میں شروع ہونے والی جنگ میں شام کے صدر بشار الاسد کی حمایت کے بعد سے تہران کا اثر و رسوخ بڑھ گیا ہے۔

اگرچہ ایرانی حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ وہ جنگ کو وسعت دینے کے خواہاں نہیں ہیں، لیکن قتل و غارت گری کی لہر اب بھی جاری ہے۔ خاص طور پر شپنگ لائن پر ایران نواز حوثیوں کےحملے جاری ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں