حوثی ایک قزاق گروپ ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے: برطانوی وزیر دفاع

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

بحیرہ احمر میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حوثی باغیوں کی جانب سے جاری حملوں کے بعد، برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس نے آج بدھ کو خبردار کیا کی کہ بحیرہ احمر میں عالمی نیویگیشن کو خطرات لاحق ہیں۔

انہوں نے کہا، "حوثی ایک قزاق گروپ ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے،" "دنیا کو ایران کے خطرے کا ادراک کرنا چاہیے۔"

انہوں نے مزید کہا کہ بحیرہ احمر میں فوجی کارروائیاں عالمی تجارت کے تحفظ کے لیے ہیں۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ حوثی حماس کی حمایت کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں لیکن نشاندہی کی کہ ان کی تاریخ اس کے برعکس ثابت کرتی ہے۔

دو نئے حادثات اور دھماکوں کی آواز

ان کا یہ بیان یمن کے قریب دو نئے واقعات پیش آنے کے بعد سامنے آیا ہے۔ ایک واقعے میں ، برٹش میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز اتھارٹی نے آج بدھ کو اعلان کیا کہ اسے یمنی شہر عدن سے 45 ناٹیکل میل جنوب میں ایک حادثے کی اطلاع ملی ہے۔

ایک واقعے میں، یمن کی بندرگاہ مخا سے 50 ناٹیکل میل جنوب میں ایک حادثے کی اطلاع بھی موصول ہوئی جس میں ایک جہاز نے اپنی دائیں جانب سے تقریباً 100 میٹر کے فاصلے پر دھماکے کی اطلاع دی۔

تاہم، جہاز اور اس کا عملہ محفوظ رہا۔

امریکی پرچم والے دو جہاز واپس مڑ گئے

دوسری جانب، ڈنمارک کی شپنگ کمپنی مارسک نے بدھ کے روز انکشاف کیا کہ امریکی پرچم والے دو بحری جہاز جو آبنائے باب المندب سے شمال کی طرف جا رہے تھے، قریب ہی ہوئے دھماکوں کو دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔

دریں اثنا، برطانوی میری ٹائم سیکیورٹی کمپنی ایمبرے نے کہا کہ جس جہاز نے یمنی بندرگاہ مخا کے جنوب میں 50 میٹر کے فاصلے پر پہنچنے کی اطلاع دی وہ امریکی پرچم والا ایک کنٹینر جہاز ہے۔

اس کے بعد امریکہ اور برطانیہ کی جانب سے بحیرہ احمر میں کاروائیاں کی گئیں۔

اس بیان سے چند گھنٹے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دو حوثی اینٹی شپ میزائلوں کو تباہ کر دیا ہے جو آج صبح جنوبی بحیرہ احمر میں داغے جانے اور نشانہ بنانے کے لیے تیار تھے۔

برطانوی وزیردفاع کا یہ بیان امریکی-برطانوی حملوں کے دو دن بعد آیا ہے، جس میں درجنوں دوسرے ممالک نے بھی حصہ لیا اور گزشتہ پیر کی رات حوثیوں کے 8 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔


33 جہاز

گزشتہ 19 نومبر سے، یعنی غزہ اسرائیل جنگ شروع ہونے کے ایک ماہ بعد سے، حوثیوں نے کم از کم 33 بحری جہازوں پر مختلف قسم کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے حملہ کیا ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ ان کے حملوں میں اسرائیل کی طرف جانے والے جہازوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ جس کی وجہ سے عالمی شپنگ ٹریفک میں خلل پڑا۔ اور عالمی افراط زر کا خدشہ پیدا گیا۔

ان حوثی حملوں نے اس خدشے کو بھی بڑھا دیا ہے کہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے اثرات، جو کہ گزشتہ 7 اکتوبر سے جاری ہے، مشرق وسطیٰ کو غیر مستحکم کر دے گا اور تنازع کو علاقائی جنگ کی شکل دے گا۔

جبکہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی گروپ نے غزہ میں جنگ بند ہونے تک اپنے حملے بند نہ کرنے کا عزم کیا۔

عراقی مسلح دھڑوں نے بھی آج حوثیوں کے حملوں کی حمایت میں اسرائیلی بندرگاہوں پر بحری ناکہ بندی کرنے کا عزم ظاہر کیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں