مختصر سوانحی خاکہ: عالمی عدالت انصاف کے جج کن ملکوں سے لیے جاتے ہیں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

عالمی عدالت انصاف کے حالیہ ججوں کی تعداد 15 ہے، تاہم اس مقدمے کی سماعت کے لیے جنوبی افریقہ اور اسرائیل نے خصوصی طور پر ایک ایک اضافی جج مقرر کیا ہے۔

عدالت کی ویب سائٹ کے مطابق اسرائیل اور جنوبی افریقہ سے شامل کئے گئے دونوں جج غیر معمولی ذاتی تاریخ کے ساتھ اپنے ممالک میں ممتاز شخصیات ہیں۔

یہ عدالت سادہ اکثریت سے فیصلہ کرتی ہے جس پر قانونی طور پر عمل درآمد کرنا ضروری ہوتا ہے لیکن عدالت کے پاس اپنے فیصلے پر عمل درآمد کروانے کا کوئی طریقہ کار موجود نہیں ہے۔

عالمی عدالت انصاف کے ججوں کا مختصر سوانحی خاکہ ذیل میں شائع کیا جا رہا ہے-

ڈیگانگ موسینیکے

چہتر 76 سالہ ڈیگانگ موسینیکے جنوبی افریقہ کے سب سے سینیئر ریٹائرڈ ججوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے نسلی امتیاز کے خلاف لڑائی لڑی اور ملک میں جمہوریت کے قیام میں اہم کردار ادا کیا۔

انہیں 15 سال کی عمر میں نسلی امتیاز کے خلاف احتجاج کرنے پر قید کیا گیا تھا۔ انہوں نے 10 سال جنوبی افریقہ کی بدنام زمانہ روبن آئی لینڈ جیل میں گزارے جہاں ان کی نیلسن منڈیلا سے دوستی ہوئی۔

موسینیکے نے جیل کی سلاخوں کے پیچھے رہتے ہوئے یونیورسٹی کی ڈگری کے لیے تعلیم حاصل کی اور رہائی کے بعد وکیل کے طور پر کام کیا۔

بعد میں منڈیلا نے ان سے کہا کہ وہ جنوبی افریقہ کے عبوری آئین کا مسودہ تیار کرنے اور ملک میں پہلے جمہوری انتخابات کی نگرانی میں مدد کریں۔

یونیورسٹی آف پریٹوریا میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قانون کے پروفیسر فرانز ولجوئن کے مطابق موسینیکے ’منصفانہ سوچ اور مقدمے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لینے کی شہرت کے مالک ہیں اور کیس میں حقائق کی پیروی کرتے ہیں۔‘

انہیں 2002 میں جنوبی افریقہ کی آئینی عدالت میں تعینات کیا گیا۔ 2005 میں انہیں ڈپٹی چیف جسٹس مقرر کیا گیا اور وہ 2016 میں ریٹائرمنٹ تک اس عہدے پر فائز رہے۔

اہرون براک

87 سالہ براک 1936 میں لتھوینیا میں پیدا ہوئے۔ وہ ہولوکاسٹ میں بچ جانے والی شخصیت ہیں اور اسرائیل کی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس رہ چکے ہیں۔

وہ دوسری عالمی جنگ کے دوران وسطی لیتھوینیا کے شہر کوونو (کونس) میں یہودی بستی میں زندہ بچ جانے والے چند بچوں میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے اپنے بچ جانے کو معجزہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ ’اس واقعے کے بعد سے مجھے کبھی موت سے ڈر نہیں لگا۔‘

اہرون براک۔ اے پی
اہرون براک۔ اے پی

براک کو ان کی والدہ نے یہودی بستی سے باہر نکالا اور ایک بیگ میں بند کر دیا، جس میں وردی رکھی جاتی ہے۔ یہ بیگ اسی بستی میں تیار کیا گیا تھا۔

وہ اسرائیل بننے سے ایک سال قبل 1947 میں اس وقت کے برطانوی مینڈیٹ والے فلسطین منتقل ہو گئے۔

1975 اور 1978 کے درمیان براک اسرائیل کے اٹارنی جنرل کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔

1978 میں انہیں سپریم کورٹ میں مقرر کیا گیا اور 1995 سے 2006 تک وہ چیف جسٹس کے طور پر خدمات انجام دینے کے بعد ریٹائر ہو گئے۔

براک کو سپریم کورٹ کی فعالیت کے چیمپیئن کے طور پر جانا جاتا ہے۔ وہ اسرائیل کے وزیراعظم بن یامین نتن یاہو کے سخت ناقد رہے ہیں، جن کی عدالتی اصلاحات نے گذشتہ سال عوام کو بری طرح تقسیم کر دیا۔

جون ای ڈونوگو

عالمی عدالت کے دیگر ججوں میں اس کی صدر جون ای ڈونوگو شامل ہیں، جن کا تعلق امریکہ سے ہے۔ وہ نو ستمبر 2010 سے عدالت کی رکن ہیں۔

جون ای ڈونوگو
جون ای ڈونوگو

کریل گیورگیان

نائب صدر کریل گیورگیان کا تعلق روسی فیڈریشن کے ساتھ ہے۔ وہ چھ فروری 2015 سے عدالت کے جج ہیں اور آٹھ فروری 2021 کو نائب صدر بنے۔

پیٹر ٹامکا

عدالت کے جج پیٹر ٹامکا سلوواکیہ کے شہری ہیں۔ وہ دوبارہ انتخاب کے بعد چھ فروری 2003 سے عدالت کے رکن ہیں۔ 2012 سے 2015 تک وہ اس عدالت کے صدر رہے۔ قبل ازیں 2009 سے 2012 تک نائب صدر رہ چکے ہیں۔

رونی ابراہم

جج رونی ابراہم کا تعلق فرانس سے ہے۔ وہ 2018 سے عدالت کا حصہ ہیں۔

محمد بنونا

جسٹس محمد بنونہ 1943ء میں مراکش میں پیدا ہوئے اور 2006 میں وہ پہلی بار بین الاقوامی عدالت انصاف کے رکن منتخب ہوئے۔

بنونہ 2001ء سے 2006ء کے درمیان نیویارک میں اقوام متحدہ میں مراکش کے سفیر اور مستقل مندوب تھے۔ ان کا بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی عدالتوں میں عدلیہ کے شعبے میں طویل کیریئر رہا ہے۔ وہ اقوام متحدہ میں کئی عہدوں پر فائز رہے۔

محمد بنونة
محمد بنونة

عبدالقوی احمد یوسف

صومالی جج عبدالقوی احمد یوسف 1948ء میں شمال مشرقی قصبے بونتلاند میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے 2009ء میں بین الاقوامی عدالت انصاف میں شمولیت اختیار کی اور 2018 سے 2021 تک عدالت کے صدر کے طور پر خدمات انجام دیں۔

عبدالقوی احمد یوسف بین الاقوامی قانون کے شعبے کے ماہر ہیں اور انسٹی ٹیوٹ آف انٹرنیشنل لاء کے رکن ہیں۔ وہ متعدد عہدوں پر فائز رہے، جن میں قانونی مشیر اور دفتر برائے بین الاقوامی معیارات اور قانونی امور برائے یونیسکو کے ڈائریکٹر اوردیگر عہدے شامل ہیں۔

عبد القوي يوسف
عبد القوي يوسف

ژیو ہانکن

خاتون جج ژیو ہانکن چینی شہری ہیں۔ وہ 2021 میں دوبارہ عدالت کا حصہ بنیں۔

جولیا سبوتندے

خاتون جج جولیا سبوتندے کا تعلق یوگینڈا سے ہے۔ وہ 2021 میں دوبارہ عدالت کا حصہ بنیں۔

دل ویر بھنڈاری

جج دل ویر بھنڈاری انڈین شہری ہیں۔ وہ 2018 میں دوسری بار عدالت کا حصہ بنے۔

پیٹرک لپٹن رابن سن

جج پیٹرک لپٹن رابن سن کا تعلق جميئکا سے ہے۔ وہ 2015 سے عدالت کے رکن ہیں۔

نواف سلام

جسٹس نواف سلام 1953ء میں پیدا ہوئے۔ وہ بین الاقوامی عدالت انصاف کے جج ہیں۔ انہوں نے 1992 میں پیرس کے انسٹی ٹیوٹ آف پولیٹیکل سائنسز سے پولیٹیکل سائنس میں ڈاکٹریٹ کی، ہارورڈ لاء اسکول سے قانون میں ماسٹر ڈگری اور سوربون یونیورسٹی سے تاریخ میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی۔

جسٹس سلام نے 2007 سے 2017 تک نیویارک میں لبنان کے سفیر اور اقوام متحدہ میں مستقل مندوب کے طور پر خدمات انجام دیں۔

نواف سلام
نواف سلام

ایوساوا یوجی

عدالت میں شامل جج ایوساوا یوجی کا تعلق جاپان سے ہے۔ وہ 2021 میں دوبارہ عدالت کا حصہ بنے۔

جارج نولتے

عالمی عدالت انصاف کے جج جارج نولتے جرمن شہری ہیں۔ وہ 2021 سے عدالت کے جج ہیں۔

ہیلری چارلز ورتھ

خاتون جج ہیلری چارلز ورتھ آسٹریلوی شہری ہیں۔ وہ 2021 سے جج ہیں۔

لیونارڈو نیمر کالڈیرا برانٹ

جج لیونارڈو نیمر کالڈیرا برانٹ برازیل کے شہری ہیں، وہ نومبر 2022 میں عالمی عدالت انصاف کا حصہ بنے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں