مصری صدرالسیسی نے نیتن یاہو کی کال کا جواب دینے سے کیوں انکار کیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اگرچہ ایسا لگتا ہے کہ مصر کے خلاف اسرائیلی حکام کی جانب سے لگائے گئے الزامات کے بعد دونوں ممالک کے درمیان اختلافات مزید خرابی کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ اسرائیلی میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کے دفتر نے حال ہی میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن مصری ایوان صدر نے اسے مسترد کر دیا تھا۔

مصری اور اسرائیلی جھنڈے
مصری اور اسرائیلی جھنڈے

اسرائیلی چینل 13 نے بدھ کے روز دو باخبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ کیا کہ مصر کے ساتھ تنازعات کے تناظرمیں اسرائیلی وزیراعظم کے دفتر نے قومی سلامتی کے ہیڈ کوارٹر کے ذریعے نیتن یاہو اور مصری صدر کے درمیان رابطہ کرنے کی درخواست پیش کی، لیکن اس پر کوئی رد عمل نہیں آیاکیونکہ مصری ایوان صدر نے جواب دینے سے انکار کر دیا تھا۔

چینل کے مطابق فلاڈیلفیا ایکسس کے ساتھ اسرائیلی کارروائی کے دوران مصر کے ساتھ بڑے اختلافات سامنے آئے ہیں۔

ذرائع نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو انکشاف کیا ہے کہ نیتن یاہو کی کالوں کا جواب دینے سے مصری انکار کی وضاحت کا مطلب اس کے مواد میں، واضح اور مضبوط وضاحتوں کا ایک مجموعہ ہے جس کی تشریح کی ضرورت نہیں ہے۔

مصری ایوان صدر اور اسرائیلی وزیر اعظم کی طرف سے غزہ کے خلاف جنگ کے حوالے سے کیے گئے اقدامات، اسے ختم کرنے سے انکار، جنگ کو طول دینے کے لیے بہت سے ذرائع استعمال کرنا، صلاح الدین محور کے بارے میں اسرائیلی بیانات اور مصر پرحماس کو اسلحہ کی اسمگلنگ جیسے الزامات نیتن یاھو کی کال نہ سننےکی اہم اور ٹھوس وجہ ہے۔

انہی ذرائع کے مطابق نیتن یاہو کو جواب نہ دینے مطلب یہ بھی ہے کہ جب تک نیتن یاھو اقتدار میں ہیں قاہرہ ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون نہیں کرے گا۔ قاہرہ سمجھتا ہے کہ نیتن یاھو کی اقتدار پرموجود اسرائیل میں سیاسی تقسیم کا ذریعہ ہے۔ اس لیے ان کے ساتھ بات چیت سود مند نہیں ہوسکتی۔

بین الاقوامی قانون کے پروفیسر ڈاکٹر محمد مہران نے تصدیق کی کہ صدر السیسی کا نیتن یاہو کو جواب دینے سے انکار مصری موقف کی عکاسی کرتا ہے۔ مصر نیتن یاھو کی پالیسیوں کو مسترد کرتا ہے۔ ایک اور پیغام کہ اسرائیلی خلاف ورزیوں پر خاموشی نہیں برتی جائے گی۔ السیسی کا موقف ایک تکلیف دہ دھچکا ہے۔اس سے نیتن یاہو اسرائیل کی علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر تنہائی کا ثبوت ملتا ہے۔

مہران نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ السیسی کا مؤقف اس بات کی فطری عکاسی ہے کہ مصری موقف فلسطین کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں کو مسترد کر رہا ہے۔

مصر فلسطینیوں کے خلاف جارحیت کو مسترد کرتا ہے۔ فلسطینی خودمختاری کا پرزور حامی اور جبری نقل مکانی کی کسی بھی کوشش کو مسترد کرتا آیا ہے۔

بین الاقوامی قانون کے پروفیسر نے مزید کہا کہ نیتن یاہو کے دھمکی آمیز بیانات نے اونٹ کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے، جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ بین الاقوامی ذمہ داریوں کی خلاف ورزی کرنے اور مصر کی خودمختاری کی خلاف ورزی کرنے والوں کے ساتھ بات چیت بیکار ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں