چین بحیرہ احمر میں حوثیوں کے حملوں کو روکنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے: ایرانی ذرائع

ایرانی ذرائع نے کہا کہ بیجنگ نے واضح کیا ہے کہ اگر چین سے منسلک کسی بھی جہاز پر حملہ ہوا یا ملکی مفادات کسی بھی طرح متاثر ہوئے تو اسے تہران سے بہت مایوسی ہوگی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

چار ایرانی ذرائع اور ایک سفارت کار نے بتایا کہ چینی حکام نے اپنے ایرانی ہم منصبوں سے کہا کہ وہ حوثی باغیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر حملوں کو روکنے میں مدد کریں بصورت دیگر بیجنگ کے ساتھ تجارتی تعلقات کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

باخبر ایرانی ذرائع نے بتایا کہ بیجنگ اور تہران میں ہونے والی حالیہ کئی ملاقاتوں میں چین اور ایران کے درمیان حملوں اور تجارت پر بات چیت ہوئی۔ ذرائع نے اس بارے میں کوئی اور تفصیلات بتانے سے انکار کر دیا کہ یہ ملاقاتیں کب ہوئیں یا ان میں کس نے شرکت کی۔

بات چیت سے واقف ایک ایرانی اہلکار، جس نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ"بنیادی طور پر، چین کا کہنا ہے کہ "اگر ہمارے مفادات کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچا تو اس سے تہران کے ساتھ ہمارے کاروبار پر اثر پڑے گا۔ اس لیے حوثیوں سے تحمل سے کام لینے کو کہیں۔"

ایران اور چین کے صدور ابراہیم رئیسی اور شی جن پنگ۔ رائیٹرز
ایران اور چین کے صدور ابراہیم رئیسی اور شی جن پنگ۔ رائیٹرز

حوثیوں کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت کرنا ہے، ایشیا اور یورپ کے درمیان ایک بڑے تجارتی راستے میں رکاوٹ کے نتیجے میں شپنگ اور انشورنس کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے جس کا استعمال چین سے آنے والے بحری جہازوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔

چاروں ذرائع نے اشارہ کیا کہ چینی حکام نے اس حوالے سے کوئی واضح نہیں کیا کہ اگر حوثیوں کے حملوں کے نتیجے میں ان کے مفادات کو نقصان پہنچا تو بیجنگ اور تہران کے درمیان تجارتی تعلقات کیسے متاثر ہو سکتے ہیں۔

اگرچہ چین گزشتہ دہائی کے دوران ایران کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر رہا ہے لیکن ان کے تجارتی تعلقات غیر متوازن ہیں۔

چینی آئل ریفائنریوں نے گڈشتہ سال ایرانی خام تیل کی برآمدات کا 90 فیصد سے زیادہ خریدا، ایسے وقت میں جب دوسرے صارفین امریکی پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی تیل سے منہ موڑ رہے ہیں اور چینی کمپنیوں نے گہری چھوٹ سے فائدہ اٹھایا ہے۔

تاہم، ایرانی تیل چین کی خام تیل کی درآمدات کا صرف 10 فیصد بناتا ہے، اور بیجنگ کے پاس سپلائرز کی کافی تعداد ہے جو کسی بھی جگہ سے کمی کو پورا کر سکتے ہیں۔

ایرانی ذرائع نے کہا کہ بیجنگ نے واضح کیا کہ اگر چین سے منسلک کسی جہاز پر حملہ ہوا یا ملک کے مفادات کو کسی بھی طرح سے نقصان پہنچا تو اسے تہران کے حوالے سے بہت مایوسی ہوگی۔

ایک باخبر ایرانی ذریعے نے نشاندہی کی کہ اگرچہ چین ایران کے لیے اہم ہے، لیکن من میں حوثیوں کے ساتھ، تہران کے غزہ، لبنان، شام اور عراق میں ایجنٹ ہیں، اور اس کے علاقائی اتحاد اور ترجیحات اس کی فیصلہ سازی میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

بحیرہ احمر کے حملوں پر بات چیت کے لیے ایران کے ساتھ ملاقاتوں پر تبصرہ کرنے کی درخواست کے جواب میں، چینی وزارت خارجہ نے کہا، "چین مشرق وسطیٰ کے ممالک کا مخلص دوست ہے اور علاقائی سلامتی اور استحکام کو بڑھانے اور مشترکہ کوششوں کے لیے پرعزم ہے۔"

"ہم مشرق وسطیٰ کے ممالک کو ان کی اسٹریٹجک آزادی کو مضبوط بنانے، صفوں کو متحد کرنے اور علاقائی سلامتی کے مسائل کے حل کے لیے تعاون کرنے میں بھرپور حمایت کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں