مشرق وسطیٰ

اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کے حوالے سے عن قریب کوئی ڈیل نہیں: وائٹ ہاؤس

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

وائٹ ہاؤس نےکہا ہے کہ امریکا غزہ میں حماس کے زیر حراست اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کے حوالے سے ایک اور معاہدے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے کام کر رہا ہےتاہم اس حوالے سے تا حال کوئی پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔

وائٹ ہاؤس کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے صحافیوں کو بتایا، ’’ہمیں کسی پیش رفت کی توقع نہیں رکھنی چاہیے‘‘۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ مشرق وسطیٰ کے لیے امریکی خصوصی ایلچی بریٹ میک گرک کی خطے کے دورے کے بعد واشنگٹن کے بعد مذاکرات میں پیش رفت ہوگی۔ کربی نے کہا کہ مک گرک قیدیوں کے بارے میں بات چیت کرنے کے بعد واپس آئے ہیں۔

خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کےمطابق یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی ہے جب امریکی سینٹرل انٹیلی جنس ایجنسی (سی آئی اے) کے ڈائریکٹر "آنے والے دنوں میں پیرس میں" مصر، اسرائیل اور قطر کے اعلیٰ حکام سے ملاقات کریں گے تاکہ غزہ کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنے کی کوشش کی جا سکے۔

ذرائع نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ امریکی صدر جو بائیڈن عن قریب ولیمز برنز کو یورپ بھیجنے کا ارادہ رکھتے ہیں تاکہ وہ غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے بدلے دو ماہ کی جنگ بندی کےمعاہدے پر بات چیت دو ماہ کے بدلے غزہ میں قیدیوں کی رہائی کے لیے بات چیت کریں۔

اسی تناظر میں وائٹ ہاؤس نےکہا کہ بائیڈن نے جمعہ کو مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے بات کی۔ بائیڈن نے قطر کے امیر الشیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی بات چیت کی۔ اس بات چیت میں غزہ میں اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی پر بات چیت کی گئی۔

مقبول خبریں اہم خبریں