سام دشمنی میں اضافے، حماس کے حملوں کی اہمیت کم کرنے خلاف بائیڈن کا انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن نے جمعہ کے روز بین الاقوامی ہولوکاسٹ کا یادگاری دن منایا جس میں انہوں نے 7 اکتوبر کو حماس کے اسرائیل پر حملوں کے بعد سام دشمنی میں خطرناک حد تک اضافے اور اس دن جو کچھ ہوا اس کی اہمیت کو کم کرنے کی کوششوں کے خلاف خبردار کیا۔

مئی 2023 میں سام دشمنی کا مقابلہ کرنے کے لیے پہلی امریکی قومی حکمتِ عملی کا آغاز کرنے والے بائیڈن نے کہا کہ حماس کا حملہ جس میں تقریباً 1,200 افراد ہلاک ہوئے تھے جو 1948 میں اسرائیل کے قیام کے بعد سے ایک دن میں سب سے بڑا جانی نقصان تھا، اس کے بعد ہولوکاسٹ اور "سام دشمنی کی لعنت" کو یاد رکھنے کی ضرورت پہلے سے کہیں زیادہ ہو گئی تھی۔

بائیڈن نے ایک بیان میں کہا، "حماس کے وحشیانہ قتلِ عام کے بعد ہم نے اندرون اور بیرونِ ملک نفرت انگیز سام دشمنی میں خطرناک حد تک اضافہ دیکھا ہے جس نے صدیوں پر محیط یہودیوں کے خلاف نفرت اور نسل کشی کے دردناک نشانات دیکھے ہیں۔ یہ ناقابلِ قبول ہے۔"

انہوں نے ہولوکاسٹ کی تردید کے خلاف زور دار مزاحمت اور حماس کی طرف سے 7 اکتوبر کو انجام پانے والی ہولناکیوں بالخصوص متاثرین کو دہشت زدہ کرنے کے لیے عصمت دری اور جنسی تشدد کے خوفناک اور ناقابلِ معافی استعمال کو کم کرنے کی کوششوں پر زور دیتے ہوئے کہا، "ہم وہ سب کچھ یاد نہیں رکھ سکتے جو ہولوکاسٹ میں زندہ بچ جانے والے یہودیوں نے تجربہ کیا تھا اور پھر خاموشی سے کھڑے ہو جائیں کہ کب یہودیوں پر دوبارہ حملہ ہو اور انہیں نشانہ بنایاجائے۔"

اقوامِ متحدہ کے ماہرین نے رواں ماہ 7 اکتوبر کے حملوں کے دوران اسرائیلی شہریوں کے خلاف جنسی تشدد پر احتساب کا مطالبہ کیا تھا جس میں عصمت دری، مسخ کرنے اور جنسی اعضاء پر گولیاں چلانے کے الزامات شامل تھے۔ حماس ان زیادتیوں کی تردید کرتی ہے۔

امریکی سینیٹ کے اکثریتی رہنما چک شومر نے نومبر میں کہا تھا کہ اسرائیل اور حماس جنگ کے آغاز کے بعد سے سام دشمنی میں اضافہ ایک "ہولناک ترین خطرے کی گھنٹی" ہے جس نے دنیا بھر میں یہودیوں کی حفاظت اور اسرائیل کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے۔

بائیڈن نے کہا ان کی انتظامیہ سام دشمنی کی مذمت اور اس کے خلاف جنگ جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ حماس کے زیرِ حراست باقی ماندہ یرغمالیوں کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہی ہے جس نے 7 اکتوبر کو تقریباً 240 افراد کو اغوا کیا تھا۔

بائیڈن نے کہا، "یہ ہماری مشترکہ اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اندرون اور بیرونِ ملک دشمنی اور نفرت انگیز تشدد کے خلاف کھڑے ہوں اور 'دوبارہ کبھی نہیں' کے وعدے کو عملی جامہ پہنائیں۔

دوسری جنگ عظیم کے وسط میں پیدا ہونے والے اور ایک عقیدت مند کیتھولک بائیڈن نے کہا کہ وہ اپنے بچوں اور پوتے پوتیوں کو جرمن حراستی کیمپ میں لے گئے تھے تاکہ انہیں "سام دشمنی کی برائی کی گہرائی اور خاموشی یا لاتعلقی کی پیچیدگی" دکھا سکیں۔

حقوق کے گروپوں نے 7 اکتوبر سے سام دشمنی اور عرب مخالف اور مسلم مخالف دونوں واقعات میں تیزی سے اضافے کی اطلاع دی ہے۔

وائٹ ہاؤس نے نومبر میں کہا تھا کہ وہ اسلامو فوبیا سے نمٹنے کے لیے ایک قومی حکمت عملی بھی تیار کر رہا تھا۔

اس کوشش کو کچھ مسلم-امریکیوں کی طرف سے شکوک و شبہات کا سامنا کرنا پڑا ہے جنہیں بائیڈن کی غزہ پر اسرائیلی حملے کے لیے مسلسل سیاسی اور مالی مدد اور جنگ بندی کا مطالبہ کرنے میں ان کی ناکامی پر غصہ ہے۔ اس حملے میں 25,000 سے زیادہ فلسطینی جاں بحق ہو گئے ہیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے جنگ بندی کے مطالبات کو مسترد کر دیا ہے لیکن اسرائیل اور حماس پر زور دے رہے ہیں کہ وہ یرغمالیوں کی رہائی اور انسانی امداد کو غزہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے کے لیے لڑائی روک دیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں