سرد جنگ گرم ہونےلگی، امریکی جوہری ہتھیاروں کی برطانیہ میں واپسی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

اخبار’دی ٹیلی گراف‘ کی طرف سے شائع کی گئی پینٹاگان کی دستاویزات میں بتایا گیا ہے کہ امریکا 15 سالوں میں پہلی بار برطانیہ میں جوہری ہتھیاروں کی تعیناتی کا ارادہ رکھتا ہے۔

برٹش رائل ایئرفورس لاکن ہیتھ میں ایک نئی سہولت کے معاہدے اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ امریکا ہیروشیما بم سے تین گنا زیادہ طاقتور جوہری وار ہیڈز تیار کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اس جگہ پر خدمات انجام دینے والی امریکی افواج کے لیے ایک نئی رہائشی سہولت کی تعمیر جون میں شروع ہونے والی ہے۔

امریکہ نے 2008ء میں برطانیہ سے جوہری میزائلوں کو ہٹا دیا تھا۔ امریکا کا خیال تھا کہ اس کا ماسکو سے سرد جنگ کا خطرہ کم ہو گیا ہے۔

گذشتہ ہفتے نیٹو کے ایک اعلیٰ فوجی اہلکار ایڈمرل روب باؤر نے کہا تھا کہ عام شہریوں کو اگلے 20 سالوں میں روس کے ساتھ ہمہ گیر جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے، جس کے لیے ان کی زندگیوں میں ایک جامع تبدیلی کی ضرورت ہوگی۔

برطانیہ کوامریکی ہتھیاروں کی واپسی کریملن کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے جواب میں جوہری مقامات کی ترقی اور جدید کاری کے لیے نیٹو کے وسیع پروگرام کا حصہ ہے۔

روس نے کہا ہے کہ برطانیہ میں امریکی ہتھیاروں کی تعیناتی کا منصوبہ ایک "جارحیت" ہے اور ماسکو"جوابی اقدامات" سے دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں