عرب کمیونٹی کی اسرائیل پالیسی پر ناراضگی، بائیڈن کی انتخابی ٹیم سے ملاقات سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کے بارے میں جوبائیڈن انتظامیہ کی پالیسیوں پر امریکی عرب شہریوں میں پائی جانے والی ناراضگی کی وجہ سے جوبائیڈن کی انتخابی مہم میں مشکلات نظر آنے لگیں۔ اس کا اظہار جمعہ کے روز اس وقت سامنے آیا جب مشی گن کے مضافاتی علاقوں میں صدر جوبائیڈن کی انتخابی مہم کی انچارج جولی چیوز روڈریگیوز ایک لمبا سفر کر کے عرب امریکیوں کو ملنے گئی تھیں۔ تاہم عرب امریکی کمیونٹی کے لیڈروں کی اکثریت نے ملنے میں رضامندی ظاہر نہیں کی۔

عرب امریکیوں کے اس ناراضگی پر مبنی رویے سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ وائٹ ہاؤس اور مختلف کمیونٹیوں کے نمایاں گروپوں میں اختلاف گہرا ہورہا ہے۔ اگرچہ یہ کمیونٹیز ڈیموکریٹس کے ساتھ گہری کمٹمنٹ رکھتی ہے۔

جولی چیوز روڈریگیوز اس وقت ملک گیر مہم پر نکلی ہوئی ہیں جہاں وہ جوبائیڈن کے حامی گروپوں سے مل رہی ہیں۔

مشی گن کے مضافاتی علاقوں میں ان کی سارا دن عرب کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ بات چیت کی کوشش رہی لیکن سہ پہر کے بعد عرب کمیونٹی کے نمائندہ افراد نے ان کے ساتھ طے شدہ میٹنگ کو منسوخ کر دیا۔ اس ملاقات میں 10 سے 15 کمیونٹی رہنماؤں نے انتخابی مہم کی انچارج سے ملاقات کرنا تھی۔ علاوہ ازیں ایک مسجد میں لگ بھگ ایک سو عرب کمیونٹی ارکان نے مہم انچارج کے ساتھ ملاقات کرنا تھی لیکن یہ ملاقات بھی نہ ہوسکی۔

دیگر کمیونٹی رہنماؤں نے بھی ملاقات سے گریز برتا۔ واضح رہے صدر جوبائیڈن کی پالیسیوں کے خلاف ایک گروپ ' Abonden Biden' کے نام سے تشکیل پایا ہے جو لوگوں کو نومبر میں ہونے والے صدارتی انتخاب میں جوبائیڈن کے حق میں ووٹ ڈالنے کی حوصلہ شکنی کر رہا ہے۔

مشی گن میں پیش آنے والے یہ دونوں واقعات اس چیز کو نمایاں کرتے ہیں کہ صدر جوبائیڈن کو انتخابی مہم کے دوران اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی کی وجہ سے چیلنجوں کا سامنا رہے گا۔ خصوصا مشی گن میں یہ چیلنج بڑا ہوگا کہ یہاں کے ناراض ووٹروں کا ووٹ جوبائیڈن کی جیت کے لیے بڑا ضروری ہے۔

عرب کمیونٹی کے ایک رہنما نے اس بارے میں بات کرتے ہوئے کہا انتخابی مہم انچارج جولی چیوز روڈریگیوز عرب کمیونٹی کے لوگوں کے ساتھ ایک بڑا اجلاس کرنے آئی تھیں لیکن چھوٹے چھوٹے اجلاسوں کے بعد ہی انہیں واپس جانا پڑا۔ حتیٰ کہ ایسی ایک میٹنگ کے لیے ایک بھی کمیونٹی رکن ان سے ملنے کے لیے نہیں ایا۔ اس طرح انہیں اپنا کمیونٹی پلان تبدیل کرنا پڑا۔

ڈپٹی وائن کمیونٹی اسد نے اس بارے میں کہا انہیں ملاقاتوں کے طےشدہ منصوبوں کے مطابق رابطہ کاری کی ذمہ داری دی گئی تھی لیکن عرب کمیونٹی کے لوگوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے وہ یہ ملاقاتیں اور اجلاس کرانے میں ناکام رہے۔

اسد کے مطابق بدھ کے روز وہ ' 10 سے زیادہ عرب کمیونٹی کے رہنماؤں سے ملے۔ لیکن ان رہنماؤں کی اپنے کمیونٹی ارکان کے ساتھ بات چیت کے بعد یہ بات سامنے آئی کہ وہ ملاقات نہیں کرنا چاہتے۔' گویا عرب کمیونٹی میں ناراضگی کافی بڑھی ہوئی ہے۔

وائن کمیونٹی کے نائب کے مطابق 'میں نہیں سمجھتا کہ جوبائیڈن انتظامیہ کو عوامی سطح پر اپنی پالیسیوں کے خلاف اس جاری چیلنج اور مسئلے کا اچھی طرح ادراک موجود ہے۔ یہ ایک بڑا مسئلہ ہے کہ کمیونٹی کے لوگ سخت ناراض ہیں۔'

واضح رہے اسرائیل کی غزہ میں جنگ کے باعث پوری دنیا میں امریکی پالیسیوں کے خلاف ایک مجموعی ردعمل پایا جاتا ہے جبکہ بعض سطحوں پر یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان بھی اختلافی شدت میں اضافہ ہے۔

دیئربورن کے میئر عبداللہ حمود نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم 'ایکس' پر جولی چیوز روڈریگیوز کے دورے کے حوالے سے ایک طنز بھرے نوٹ میں ترکیہ کو جنگی جہاز کی فراہمی پر زور دیا۔ 'ہمارا اگر تھوڑا سا مشورہ بھی مانیں تو ہمیں اپنے امیدوار کو ووٹ دینے کا اس دن نہ کہیں جس دن آپ نے ہمارے خاندان کے لوگوں کو قتل کرنے والے ظالموں کو جنگی طیارے دینے کا اعلان کرنا ہے۔'

میئر کے دفتر نے اس امر کی تصدیق کی ہے کہ انتخابی مہم کی انچارج کے دورے کے دوران میئر کو بھی ملاقات کی دعوت دی گئی تھی لیکن میئر نے ملاقات نہیں کی ہے۔ اسی طرح دو مزید ریاستی نمائندوں الباس فرحت اور ابراہیم عیاش نے بھی جولی چیوز روڈریگیوز سے ملاقات نہیں کی ہے۔

الباس فرحت نے اپنے ایک بیان میں کہا 'یہ غیرحقیقیت پسندانہ بات ہوگی کہ اس طرح سیاسی بات چیت کے ذریعے صدر جوبائیڈن کے لیے ہماری حمایت دوبارہ مل جائے گی۔ حقیقت یہ ہے کہ (غزہ میں) صرف جنگ بندی ہی جوبائیڈن کے لیے حمایت کے دروازے کو دوبارہ کھول سکتی ہے۔'

ابراہیم عیاش ڈیموکریٹس کے مشی گن میں دوسری صف کے رہنما ہیں۔ وہ بھی امریکی انتظامیہ کے حکام کی رسائی سے ایک سے زائد بار باہر رہے ہیں جب حکام مشی گن میں عرب امریکی کمیونٹی کے درمیان پائی جانے والی ناراضگی اور بےچینی کو ختم کرنے کے لیے بات چیت کرنے آئے تھے۔

جولی چیوز روڈریگیوز کے وفد سے قریبی رابطے میں رہنے والے ایک ذریعے نے بتایا ہے کہ مہم کی انچارج نے پورے ڈیٹروائٹ میں کئی اجلاس طے کیے تھے جو عرب کمیونٹی، ہسپانوی کمیونٹی اور سیاہ فاموں وغیرہ کے ساتھ تھے مگر کامیابی نہ ملی۔

اسامہ سبلانی نے البتہ کمیونٹی کے سخت دباؤ اور اصرار کے بواجود جولی چیوز روڈریگیوز کے ساتھ آدھے گھنٹے کی ملاقات کی ہے۔ یہ ملاقات سبلانی کے اس صحافتی ادارے کے دفتر میں ہوئی جو عرب امریکی کمیونٹی کی نمائندگی کرتا ہے۔ سبلانی کے مطابق عرب کمیونٹی نہیں چاہتی تھی کہ وہ یہ ملاقات کرے۔ تاہم انہوں نے ملاقات اس لیے ضروری سمجھی کہ وہ عرب کمیونٹی کے جذبات سے جوبائیڈن انتظامیہ ک و اچھی طرح مطلع کر سکیں۔

سبلانی کے مطابق جولی چیوز روڈریگیوز ہماری بات سننے کے لیے گہری توجہ اور دلچسپی کے ستاھ موجود رہیں اور ہم نے انہیں اپنے موقف سے اچھی طرح آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ یہ جذبات صدر جوبائیڈن کے سامنے پیش کریں گی۔

مقبول خبریں اہم خبریں