غزہ پر عالمی عدالت انصاف کے فیصلے پر منڈیلا اپنی قبر میں مسکرائیں گے: جنوبی افریقہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کے ہاتھوں نسل کشی کے جرائم کے حوالے سے جنوبی افریقا کی جانب سے عالمی عدالت انصاف میں دی گئی درخواست پرعدالت کے فیصلے پر عالمی سطح پر غیرمعمولی رد عمل سامنے آیا ہے۔

جمعہ کے روز اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت ’آئی سی جے‘ نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ غزہ کی پٹی میں اپنی جنگ میں نسل کشی کے لیے براہ راست اکسانے کی روک تھام اور سزا دینے کے لیے اقدامات کرے۔

عدالت نے کہا کہ "ریاست اسرائیل کو نسل کشی کنونشن کے آرٹیکل II کے دائرہ کار میں تمام کارروائیوں کو روکنے کے لیے اپنی بساط کے مطابق تمام اقدامات کرے"۔

17 ججوں پر مشتمل ICJ پینل کی ایک بڑی اکثریت نے غزہ میں اسرائیلی فوجی کارروائی کو روکنے کی ہدایت کے علاوہ جنوبی افریقہ کی درخواستوں میں سے زیادہ تر پر فوری اقدامات کے حق میں ووٹ دیا۔

عدالت نے اسرائیل کو حکم دیا کہ وہ کسی بھی ایسی کارروائی سے باز رہے جو نسل کشی کنونشن کےاصولوں کے تحت آتی ہو۔ ساتھ ہی اس بات کو یقینی بنائے کہ اس کی افواج غزہ میں نسل کشی کی کوئی کارروائی نہ کریں۔

فلسطینی وزارت خارجہ نے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور کہا کہ یہ ایک اہم یاد دہانی ہے کہ کوئی بھی ریاست قانون سے بالاتر نہیں ہے۔

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی نے جمعہ کو ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں کہا کہ عدالت کے ججوں نے حقائق کا جائزہ لیا اور انسانیت اور بین الاقوامی قانون کے حق میں فیصلہ دیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطین اسرائیل سمیت تمام ممالک سے مطالبہ کرتا ہے کہ وہ عدالت کے حکم پر عارضی اقدامات پر عمل درآمد کو یقینی بنائیں۔

جمعہ کے روز جنوبی افریقہ نے بین الاقوامی عدالت انصاف کے جاری کردہ اس فیصلے کی تعریف کی جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی کی کسی بھی کارروائی کو روکنے کے لیے اپنی طاقت میں ہر ممکن اقدام کرنا چاہیے۔

جنوبی افریقہ کی وزارت خارجہ نے کہا کہ ’’آج کا دن بین الاقوامی قانون کی حکمرانی کے لیے فیصلہ کن فتح اور فلسطینی عوام کے لیے انصاف کے حصول میں ایک اہم موڑ کی نمائندگی کرتا ہے‘‘۔

جنوبی افریقہ کے وزیر انصاف نے تبصرہ کرتےہوئے کہا کہ "ہمیں یقین ہے کہ آنجہانی صدر نیلسن منڈیلا اپنی قبر میں مسکرا رہے ہوں گے کیونکہ وہ نسل کشی کنونشن کے محافظ تھے"۔

حماس کے ایک رہنما نے زور دے کر کہا، "بین الاقوامی عدالت انصاف کا فیصلہ ایک اہم پیش رفت ہے جو اسرائیل کو تنہا کرنے اور غزہ میں اس کے جرائم کو بے نقاب کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ ہم اسے عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے پابند بنانے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

انہوں نے کہا کہ"ہم عدالت کے فیصلوں پر عمل درآمد کے لیے قابض ریاست کو پابند کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں"۔

فتح تحریک: جنوبی افریقہ کے مقدمے نے بین الاقوامی قانون کی حیثیت بحال کردی

فتح تحریک کے ترجمان عبدالفتاح دولہ نے جمعے کے روز کہا کہ غزہ کی جنگ کے حوالے سے عالمی عدالت انصاف کے فیصلے نے بین الاقوامی قانون کی حیثیت اور بین الاقوامی انصاف اور انسانیت کی اقدار کو بحال کرتے ہوئے اسرائیل کو کٹہرے میں کھڑا کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس فیصلے نے ثابت کیا ہے کہ اب یہ قانون سے بالاتر ریاست نہیں ہے۔

تحریک فتح کے ترجمان نے ایک بیان میں مزید کہا کہ عدالت کی جانب سے اسرائیل کے خلاف جنوبی افریقہ کے مقدمے کی منظوری اور عارضی اقدامات کرنے کا مطالبہ "ٹھوس ثبوتوں کا نتیجہ ہے جن میں اسرائیل نے فلسطینی عوام کے خلاف نسل کشی کے جرائم کا ارتکاب کیا ہے"۔

انھوں نے مزید کہا کہ اسرائیلی لیڈروں نے "اپنے براہ راست بیانات کے ذریعے عالمی عدالت کے فیصلے کی مذمت کی۔ وہ میں فلسطینی عوام کوہلاک اور بے گھر کرنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے اور اس نے غزہ کی پٹی میں 26,000 سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک اور زندگی کے تمام پہلوؤں کو تباہ کر دیا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں