بھارتی اپوزیشن اتحاد کو بڑا سیاسی دھچکا، حلیف وزیر اعلیٰ بہار نے استعفیٰ دیدیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

بھارتی اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد کو اتوار کے روز ایک بڑے سیاسی دھچکے کا سامنا کر پڑا ہے۔ ایک ریاست میں اہم اتحادی وزیر اعلیٰ نے گورنر کو استعفیٰ پیش کرکے اتحاد سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے کہہ دیا ہے ' اپوزیشن اتحاد میں سب اچھا نہیں تھا۔

اپوزیشن اتحاد سے الگ ہونے والے وزیر اعلیٰ نے فوری طور پر بی جے پی کے ساتھ اتحاد کا اعلان کر دیا ہے۔ اگلے تین ماہ بعد ہونے والے والے لوک سبھا کے انتخابات سے پہلے بھارتی اپوزیشن کو یہ ایک اور دھچکہ لگا ہے جبکہ بھارت کی حکمران جماعت کو ایک اور بڑی کامیابی مل گئی ہے۔

تاہم اپوزیشن اتحاد میں سب سے اہم جماعت کانگریس کے ترجمان جئے رام رامیش نے اس بڑی سیاسی پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی الیکشن کی وجہ سے خوف زدہ ہے اس لیے اس طرح کے سیاسی ڈرامے اس کی ضرورت ہیں۔

واضح رہے اپوزیشن کے اتحاد میں 28 جماعتیں اکٹھی ہوئی تھیں تاکہ حکمران جماعت کا مقابلہ کر سکیں ، امکان یہی تھا کہ یہ اتحاد مئی میں متوقع انتخابات میں بھیئ اکٹھی ہی چلتی رہیں گی اور حکمران جماعت 'بی جے پی ' کے خلاف مل کر الیکشن لڑیں گی۔ لیکن الیکشن سے پہلے ہی اس اتحاد میں ٹوٹ پھوٹ کی علامات سامنے الگی ہیں۔

عام آدمی پارٹی جس کی نئی دئیلی میں حکومت ہے وہ بھی اسی اپوزیشن کے اتحاد میں شامل ہے ۔ مگرعام آدمی پارٹی پہلے ہی اعلان کر چکی ہے کہ وہ لوک سبھا کے انتخابات میں اپنی شناخت اور نشان کی بنیاد پر الیکشن لڑے گی۔

اتحاد سے الگ ہونےوالے والے وزیر اعلیٰ بہار نتیش کمار نے استعفے کے بعد ' اے این آئی ' سے بات کرتے ہوئے کہا ' میں نے وزارت اعلیٰ سے اپنا استعفیٰ گورنر کو بھج دیا ہے۔ کیونکہ اپوزیشن کے اتحاد کے ساتھ سب اچھا نہیں چل رہا تھا۔'

نتیش کمار نے کہا ' میں نے آج ہی استعفیٰ گورنر کو بھیجا ہے۔ نیز گورنر سے اسمبلی برخاست کرنے کا بھی کہہ دیا ہے۔ یہ اس لیے کیا ہے کہ اپوزیشن کے اتحاد کی وجہ سے سب اچھا نہیں چل رہا تھا۔

مبصرین کے مطابق نتیش کمار کے اس طرح راستہ جدا کرنے کے باعث اپوزیشن جماعتیں کمزور ہو گئی ہیں جنہوں نے ابھی پچھلے سال ہی باہم اتفاق کیا تھا کہ اپنے تمام تر اختلافات کو ایک طرف رکھ کر اکٹھی چلیں گی۔ تاکہ ' انڈیا ' کے نام سے تشکیل پانے والے اس اتحاد کے پلیٹ فارم سے اگلے عام انتخابات میں مشترکہ طور حصہ لیں اور حکمران اتحاد کا مقابلہ کر سکیں۔ اس اتحاد کی تشکیل میں نتیش کمار کا کردار بھی اہم رہا تھا۔

بھارتی کی مشرقی ریاست مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے پچھلے ہفتے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ بھی الگ سے الیکشن میں حصہ لیں گی اور اتحاد کےساتھ مشترکہ امیدوار یا مشترکہ نشان پر انتخاب نہیں لڑیں گی۔

گویا تین ریاستی حکومتوں کے وزرائے اعلیٰ نے الیکشن سے بہت پہلے ہی کانگریس سے راستہ الگ کر لیا ہے۔ ان ریاستوں میں بہار ۔ نئی دہلی اور مغربی بنگال شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں