یوگنڈا کا بین الاقوامی عدالت انصاف کی جج جولیا سیبوٹینڈے کے اختلافی نوٹ سے عدم اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یوگنڈا نے بین الاقوامی عدالت انصاف کی جج جولیا سیبوٹینڈے کے جنوبی افریقہ کی طرف سے دائر مقدمہ پر اختلافی نوٹ سے عدم اتفاق کیا ہے۔ یوگنڈا کا اس بارے میں کہنا ہے کہ ہمارا مؤقف وہ نہیں ہے جو جج جولیا سیبوٹینڈے نے عدالتی فیصلے کے موقع پر اپنے اختلافی نوٹ میں دیا ہے۔

بین الاقوامی عدالت انصاف کے 17 ججوں میں جولیا سیبوٹینڈے وہ واحد جج ہیں جنہوں نے ان چھ نکات پر مبنی فیصلے سے اختلاف کیا ہے۔ جن کے ذریعے اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی سے روکنے کی بات کی گئی ہے اور اس سے ایک مہینے کے اندر اندر رپورٹ عدالت میں جمع کرانے کو کہا ہے۔

یوگنڈا کی حکومت کے جاری کردہ بیان میں ہفتے کے روز کہا گیا ہے 'جج جولیا سیبوٹینڈے نے جو موقف اپنے اختلافی نوٹ میں اختیار کیا ہے یوگنڈا کی حکومت کی رائے اس سے بالکل مختلف ہے۔' گویا یوگنڈا سے تعلق رکھنے والی اس جج کی رائے کو یوگنڈا کی رائے نہ سمجھا جائے۔

یوگنڈا کی طرف سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ غیرجانبدار تحریک کے اس مؤقف کے ساتھ کھڑے ہیں جو اسی ماہ غزہ میں جاری جنگ کے حوالے سے اس تحریک کے رکن ممالک نے اپنی سربراہ کانفرنس میں اختیار کیا۔

واضح رہے غیر جانبدار تحریک کے رکن ممالک کی سربراہی کانفرنس کے دوران جاری کیے گئے اعلامیے میں غزہ میں اسرائیلی جنگی جارحیت سے ہونے والی شہری ہلاکتوں کی مذمت کی گئی۔ نیز غزہ میں فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا اور بلا روک ٹوک انسانی بنیادوں پر غزہ میں امدادی کارروائیوں پر زور دیا گیا ہے۔

واضح رہے بین الاقوامی عدالت انصاف سے اسرائیل کے خلاف نسل کشی کے معاملے پر رجوع کرنے والا جنوبی افریقہ بھی غیرجانبدار تحریک کے بانیوں میں شامل ہے۔ اس کے دائر کردہ مقدمے کو بین الاقوامی عدالت انصاف نے پذیرائی بخشی ہے اور اسرائیل کے خلاف فیصلہ دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں