اونروا ملازمین پر 7 اکتوبر کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام، جاپان نے فنڈ روک دیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جاپان نے کہا ہے کہ وہ بھی ان دوسرے ملکوں کے ساتھ شامل ہو رہا ہے جنہوں نے فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کے لیے قائم اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے 'اونروا' کے لیے فنڈز روک دیے ہیں۔ ان ملکوں نے یہ کارروائی اس الزام کی تحقیقات سے بھی پہلے کی ہے جن میں کہا گیا ہے کہ 'اونروا' کے 12 کارکنوں نے سات اکتوبر کے حملے میں اسرائیل کے خلاف حصہ لیا تھا۔

اسرائیل کی طرف سے اس الزام کے سامنے آنے کے بعد 'اونروا' نے اپنے 9 کارکنوں کو ملازمت سے برطرف کر دیا ہے۔ ان میں ایک ہلاک ہو چکا ہے جبکہ دو کی شناخت اور تلاش کا سلسلہ جاری ہے۔ 'اونروا' نے اپنے کارکنوں کے خلاف یہ اقدام کرنے کے ساتھ ہی یہ بھی اعلان کیا ہے کہ ان کے خلاف آزادانہ اور جامع تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے تحقیقات شروع ہونے سے پہلے ہی امریکہ اور بعض دیگر ملکوں کی طرف سے 'اونروا' کے فنڈز روکے جانے پر ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے۔ جس میں 'اونروا' کی طرف سے شروع کی گئی تحقیقات اور اب تک کی کارروائی کا بھی ذکر ہے۔ تاہم انہوں نے فنڈ روکنے والے ملکوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 'اونروا' کے فنڈز کو نہ روکیں۔

جن ملکوں نے فنڈز روکنے کا اس سے پہلے اعلان کر رکھا ہے ان میں امریکہ کے علاوہ برطانیہ، سویٹزرلینڈ، اٹلی، آسٹریلیا اور کینیڈا بطور خاص شامل ہیں۔ اب ان میں جاپان بھی شامل ہوگیا ہے۔ جاپان کی طرف سے یہ اعلان اتوار کی رات کیا گیا ہے کہ وہ غزہ میں امدادی کارروائیاں کرنے والے ادارے 'اونروا' کے لیے فنڈنگ روک رہا ہے۔

تاہم جاپان کی وزارت خارجہ نے یہ اعلان کیا ہے کہ جاپان 'اونروا' کے ایڈیشنل فنڈز کو روک رہا ہے اور یہ اس وقت روکے رکھے گا جب تک کہ اقوام متحدہ میں اس سلسے میں تحقیقات مکمل نہیں ہوتیں اور کارروائی عمل میں نہیں لائی جاتی۔

جاپانی وزارت خارجہ کے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ جاپان غزہ میں انسانی صورتحال کو بہتر کرنے کے لیے اپنی سفارتی کوششیں اس دوران بھی جاری رکھے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں