سابق برطانوی وزیراعظم بورس جانسن کا فوج میں رضاکارانہ خدمات انجام دینے کا عزم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

سابق برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن نے کہا ہے کہ وہ برطانوی افواج میں بہ طور رضا کار شامل ہونے کا عہد کرنے کے ساتھ "شہریوں پر مشتمل فوج" بنانے کے آرمی کمانڈر کے مطالبے کی حمایت کرتے ہیں۔

ایک ویڈیو کلپ میں بورس جانسن نے کہا کہ "کارپورل جانسن مشن سنبھال رہے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ میری طرف سے آرمی چیف جنرل سینڈرز کو پیغام دیا جائے کہ میں نے ایک نئی شہری فوج بنانے کے لیے ان کی تجویز کو پسند کیا ہے‘‘۔

"میں خوشی سے فوج میں جاؤں گا"

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے اپنے آپ سے پوچھا کہ کیا میں یہ کر سکتا ہوں؟ کیا میں یہ کروں گا؟ کیا میرے اندر ابھی بھی جنگی عناصر اور صلاحیت موجود ہے؟"۔

"پھر میں نے اپنے آپ سے سوال کیا کہ 'کیا میں بادشاہ سلامت اور ملک کے لیے لڑنے کی خاطراپنی رجسٹریشن کراؤں؟۔ ان سب سوالوں کا جواب ہاں میں تھا یقیناً میں خوشی سے ایسا کروں گا"۔

"فوجی تربیت"

بورس جانسن جو پہلے اپنے وزن کے ساتھ اپنی جدوجہد کے بارے میں کالم لکھ چکے ہیں نے اصرار کیا کہ ان کے پاس فوج کے لیے ضروری تربیت موجود ہے۔

برطانوی فوج کے کمانڈر جنرل پیٹرک سینڈرز نے شہریوں سے لڑائی کی صورت میں بھرتی کے لیے بلائےجانے کی تجویز دی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ چونکہ برطانوی فوج بہت چھوٹی ہے۔ اس لیے شہریوں کی فوج ضروری ہے‘‘۔

رشی سوناک نے تجویز مسترد کرد

انہوں نے کہا کہ حکومت کو ایک "شہری فوج" کو تربیت دینے اور اسلحہ سے لیس کرنے کی ضرورت ہوگی۔ تاہم وزیر اعظم رشی سوناک کواس تجویز کے خلاف ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ لوگوں کو زبردستی بھرتی نہیں کیا جائے گا۔

تاہم جانسن نے اصرارکیا کہ وہ سینڈرز کی اپیلوں کی حمایت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ وہ خود فوج میں رضاکارانہ طور پر کام کریں گے۔

اس ماہ کے شروع میں ’دی ٹیلی گراف‘ نے انکشاف کیا تھا کہ بحریہ کے پاس بہت کم سیلرہیں جس کی وجہ سے اسے اپنے فریگیٹس کی نئی کلاس کو چلانے کے لیے دو جنگی جہازوں کو سروس سے ہٹانا پڑا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں