فرانس نے ’اونروا‘ کی امداد معطل کر دی، سخت اقدامات کا مطالبہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (’اونروا‘) کے بعض ملازمین پر اسرائیل پر حملے میں ملوث ہونے کے الزامات سامنے آنے کے بعد مختلف ممالک کی جانب سے ادارے کی امداد روکے جانے کا سلسلہ جاری ہے۔ دیگر ممالک کی طرح فرانس نے بھی ’اونروا‘ کی امداد موجودہ سال کی سہ ماہی کے لیے معطل کردی ہے۔

فرانسیسی وزارت خارجہ نے اتوار کو ایک بیان میں وضاحت کی کہ "7 اکتوبر کے حملوں میں ’اونروا‘ ملازمین کی شرکت سے متعلق معلومات بہت سنگین ہیں اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے واضح طور پر ان کارروائیوں کی مذمت کی ہے"۔

ٹھوس کارروائی پر زور

فرانسیسی وزرات خارجہ نے ایک بیان میں کہا یو این ریلیف ایجنسی کے ملامین کا اسرائیل پرحملے میں کردار افسوسناک اور خطرناک پیش رفت ہے۔ ان معلومات کے سامنے آنے کے بعد اس حوالے سے فیصلہ کن کارروائی کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

ایجنسی نفرت یا تشدد سے پاک جذبے کے ساتھ اپنے مینڈیٹ پر توجہ مرکوز کرتی ہے۔ ہم توقع کرتے ہیں کہ حالیہ دنوں میں شروع ہونے والی تحقیقات میں اسرائیل پر حملوں میں ملوث اہلکاروں کے خلاف ٹھوس اقدامات کیے جائیں گے۔

بیان کے مطابق غزہ میں تباہ کن انسانی صورتحال کو دیکھتے ہوئے فرانس نے غزہ میں شہری آبادی کے لیے اپنی انسانی امداد میں نمایاں اضافہ کرنے کا انتخاب کیا ہے اور خاص طور پر، 2023 میں ’اونروا‘ کی سرگرمیوں میں تقریباً 60 ملین یورو کا تعاون کیا ہے۔

فرانس نے 2024 کی پہلی ششماہی میں نئی کھیپ کی منتقلی کا منصوبہ نہیں بنایا ہے۔وہ وقت آنے پر فیصلہ کرے گا کہ اقوام متحدہ اور بڑے عطیہ دہندگان کے ساتھ تعاون میں کیا اقدامات کیے جائیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں