ملین ڈالر کا سوال،امریکا ایران کو براہ راست جواب کیوں نہیں دیتا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی صدر جو بائیڈن کی جانب سے شام کی سرحد پر اردن کے شمال مشرق میں ٹاور 22 میں ایک امریکی اڈے پر مہلک ڈرون حملے میں تہران کے وفادار دھڑوں کے ملوث ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔ دوسری جانب امریکا میں ریپبلیکنز نے امریکی حکومت سےمطالبہ کیا ہے کہ وہ براہ راست ایران پر حملہ کرکے اردن میں فوجی اڈے پر حملے کا جواب دے۔

کیا واقعی امریکا جواب دے گی؟

ان مطالبات کے جواب میں امریکی محکمہ خارجہ کے سابق ترجمان، ایڈم ارلی نے اس سوال کو "ملین ڈالر کا سوال" قرار دیا۔

العربیہ/الحدث چینل سے آج سوموار کے روز بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ تجویز درست ہے، خاص طور پر چونکہ عراق میں حزب اللہ بریگیڈز نے امریکی اڈوں کو نشانہ بنایا، حوثیوں نے بھی امریکی جہازوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اوریہ دونوں گروپ امریکی حملوں کے باوجود حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کیا کہ کیا تہران کے پراکسیوں کو نشانہ بنانے کی امریکی حکمت عملی اب تک کامیاب رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب وقت آگیا ہے کہ دشمن کو پہنچنے والے نقصان کو بڑھایا جائے اور ایران پر حملہ کیا جائے۔

اس کا کہنا تھا کہ "تہران اپنے ایجنٹوں کو اپنی طرف سے قربانی کی بھینٹ چڑھا رہا‘‘۔ انہوں نے استفسار کیا کہ کیا ایرانیوں کو براہ راست مارنے سے صورت حال بدل جائے گی؟‘‘۔

"ایران پر حملہ کیا جائے"

اسی دوران بہت سے ریپبلکنز نے ایران کے اندر براہ راست حملوں کا مطالبہ کیا ہے۔ سینیٹر لنڈسے گراہم نے "ایکس" پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "ایران پر فوری طور پر حملہ کریں اور اسے سخت سزا دیں"۔ کچھ ایسے ہی الفاظ ایک دوسرے سینیٹر ٹام کاٹن کے ہیں۔

جان کارنین نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر ایک ٹویٹ میں ایران پر بمباری کرنے پر زور دیا اور لکھا، "ایران پر حملہ کریں"۔

ایرانی تردید

دریں اثنا سوموار کے روز ایران نے اس حملے میں اپنے ملوث ہونے کی تردید کی جس میں اردن میں تین امریکی فوجی ہلاک ہوئے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان ناصر کنعانی نے کہا کہ "ان الزامات کا ایک سیاسی مقصد ہے جس کا مقصد خطے میں حقائق کو الٹنا ہے"۔

قابل ذکر ہے کہ اس تازہ حملے نے بلاشبہ خطے میں کشیدگی کو بڑھا دیا ہے اور اس خدشے کو ہوا دی ہے کہ 7 اکتوبر کو غزہ کی پٹی میں شروع ہونے والی جنگ کا دائرہ وسیع ہو جائے گا جس میں براہ راست ایران بھی شامل ہو سکتا ہے۔

خاص طور پر چونکہ غزہ میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ان حملوں نے صدر جوبائیڈن کو مشکل میں ڈال ہے جو ایک طرف امریکا میں الیکشن مہم چلا رہے ہیں اور دوسری طرف انہیں ایران اور اس کے پراکیسوں کے حملوں کے بعد امریکی رائے عامہ کے رد عمل کا سامنا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں