إسرائيل پر حملے کے شبہے میں نیوزی لینڈ نے بھی اونروا کی فنڈنگ معطل کر دی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

نیوزی لینڈ منگل کے روز ان ممالک کی فہرست میں شامل ہو گیا جنہوں نے اسرائیلی الزامات کے بعد اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزینوں کی ایجنسی کو فنڈنگ روک دی ہے۔ اسرائیل نے ایجنسی کے کچھ افراد کے 7 اکتوبر کو حماس کے حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا تھا۔

وزیرِ اعظم کرسٹوفر لکسن نے کہا کہ نیوزی لینڈ نے فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی کو ان الزامات کی تحقیقات ہونے تک فنڈنگ روک دی ہے۔

ایجنسی نے اسرائیل کے الزامات پر عملے کے کئی ارکان کو برطرف کر دیا ہے اور ان دعوؤں کی مکمل تحقیقات کا وعدہ کیا ہے جن کی وضاحت نہیں کی گئی تھی۔ اسرائیل نے جنگ کے بعد غزہ میں ایجنسی کا کام روکنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔

لکسن نے نامہ نگاروں کو بتایا، "الزامات ناقابلِ یقین حد تک سنگین ہیں۔ یہ ضروری ہے کہ انہیں صحیح طریقے سے سمجھا جائے اور ان کی تحقیقات کی جائیں۔"

لکسن نے مزید کہا کہ نیوزی لینڈ یو این آر ڈبلیو اے کے لیے "مزید کوئی تعاون" نہیں کرے گا جب تک کہ وزیرِ خارجہ ونسٹن پیٹرز "ایسا کرنے کی منظوری نہ دیں"۔

ریاست ہائے متحدہ، آسٹریلیا، برطانیہ، جاپان اور جرمنی دوسرے ممالک میں شامل ہیں جنہوں نے پہلے ہی ایجنسی کی مالی امداد معطل کر دی ہے جو غزہ میں انسانی ہمدردی کی کوششوں کا مرکز رہی ہے۔

لکسن نے کہا کہ نیوزی لینڈ ایجنسی کو سالانہ فنڈنگ میں تقریباً 1 ملین نیوزی لینڈ ڈالر (613,260 امریکی ڈالر) فراہم کر رہا ہے۔

یورپی یونین نے پیر کے روز اقوامِ متحدہ کی فلسطینی پناہ گزین ایجنسی کے "فوری" آڈٹ کا مطالبہ کیا ہے اور وہ فنڈنگ کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں