گولڈن ویزا حاصل کرنے کے چھ طریقے جو نوکری سے منسلک نہیں: تمام ضروری معلومات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

پانچ سے 10 سالہ گولڈن ویزا ایک طویل مدتی رہائشی اجازت نامہ ہے جو غیر ملکی شہریوں کو ملک میں رہنے، کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔

یہ ویزہ زمرہ بہت سے فوائد فراہم کرتا ہے مثلاً خاندان کے ارکان بشمول میاں بیوی اور بچوں کی کفالت ان کی عمر سے قطع نظر، گھریلو ملازمین کی لامحدود تعداد کو سپانسر کرنا، چھ ماہ کی عمومی طے شدہ مدت سے زیادہ وقت متحدہ عرب امارات سے باہر رہنے کی لچک اور بہت کچھ۔

جنرل ڈائریکٹوریٹ آف ریذیڈنسی اینڈ فارنرز افیئرز - دبئی کے مطابق صرف دبئی میں 2023 کی پہلی ششماہی میں گولڈن ویزوں کے اجراء میں 52 فیصد اضافہ ہوا۔ نومبر 2022 تک امارات نے جائیداد کے اہل خریداروں، سرمایہ کاروں، پیشہ ور افراد اور دیگر کو 152,000 سے زیادہ گولڈن ویزے جاری کیے تھے۔

ملازمت کی حیثیت سے آزاد گولڈن ویزا زمرے

صحت کی نگہداشت، میڈیا اور دیگر صنعتوں میں 30,000 یا اس سے اوپر کی ماہانہ تنخواہ کے ساتھ کام کرنے والے پیشہ ور افراد گولڈن ویزا کے اہل ہیں۔

البتہ کچھ ایسے زمرے ہیں جہاں 10 سالہ ویزا کی درخواست دینے کے لیے ملازمت کی ضرورت نہیں ہے۔

ریل اسٹیٹ کے سرمایہ کار

اگر آپ متحدہ عرب امارات میں ایک جائیداد یا جائیدادوں کے گروپ کے مالک ہیں جس کی تخمینہ قیمت 2 ملین درہم یا اس سے زیادہ ہے تو آپ پانچ سالہ گولڈن ویزا کے اہل ہیں جس کی تجدید اسپانسر کی ضرورت کے بغیر کی جا سکتی ہے۔

متعلقہ امارات کے محکمۂ اراضی کی طرف سے ایک عارضی/عبوری خط جس میں کہا گیا ہو کہ آپ 2 ملین درہم یا اس سے زیادہ مالیت کی ایک یا زیادہ جائیدادوں کے مالک ہیں۔ اس کے ساتھ ویزا زمرے کے لیے آپ کی اہلیت ثابت کرنے کے لیے مقامی باڈی سے منظور شدہ مخصوص مقامی بینک سے قرض کے ساتھ جائیداد کی خریداری کے ثبوت کی ضرورت ہو گی۔

کاروباری افراد

حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق کاروباری افراد پانچ سال کی مدت کے لیے گولڈن ویزا کے اہل ہیں اگر وہ "خطرے اور اختراع پر مبنی تکنیکی یا مستقبل آفریں نوعیت کے اقتصادی منصوبے" کے مالک ہیں۔

ویزا کی اہلیت کے لیے ایک آڈیٹر سے منظوری نامےکی ضرورت ہوتی ہے جس میں کہا گیا ہو کہ پروجیکٹ کی قیمت درہم 500,000 یا اس سے زیادہ ہے اور اس کے ساتھ حکام کی جانب سے ایک خط میں کہا گیا ہو کہ یہ پروجیکٹ تکنیکی یا مستقبل آفریں نوعیت کا ہے۔

شاندار خصوصی ہنر

اگر آپ کے پاس شاندار مہارت ہے تو آپ کو 10 سال کے لیے گولڈن ویزا مل سکتا ہے۔ ڈاکٹر اور سائنسدان، موجد، ثقافت و فنون کے شعبے کے تخلیقی افراد، ایگزیکٹو ڈائریکٹرز، کھلاڑی، اور انجینئرنگ اور سائنس کے ماہرین اس زمرے میں شامل ہیں۔

اس زمرے میں گولڈن ویزا کی اہلیت حاصل کرنے کے لیے فرد کی صلاحیت اور قابلیت ظاہر کرنے والی متعلقہ دستاویزات درکار ہیں۔

نمایاں قابلیت کے حامل طلباء

کم از کم 95 فیصد گریڈ کے ساتھ ہائی اسکول کے طلباء اور قومی سطح کے ٹاپرز پانچ سال کے لیے گولڈن ویزا کے اہل ہیں جس میں توسیع کی جا سکتی ہے اگر طالب علم ملک کے کسی ایسے تسلیم شدہ کالج میں داخلہ لے رہا/رہی ہے جس کے لیے تعلیم کی پانچ سال سے زیادہ مدت درکار ہو۔

گولڈن ویزا کی درخواست دینے کے لیے طالب علم کو وزارتِ تعلیم سے سفارشی خط حاصل کرنا ہو گا۔

یونیورسٹی کے تمام نمایاں طلباء 10 سال کے لیے گولڈن ویزا کے اہل ہیں۔ ویزا کے لیے اہل ہونے کے لیے طالب علم کی یونیورسٹی کو یا تو وزارتِ تعلیم کی طرف سے اول یا دوئم کا درجہ حاصل ہونا چاہیے اور یونیورسٹی سے سفارشی خط یا 3.5 مجموعی جی پی اے یا اس سے زیادہ کے ساتھ ایک تسلیم شدہ گریجویشن سرٹیفکیٹ درکار ہے۔

غیر ملکی یونیورسٹیوں کے نمایاں طلباء کو بھی 10 سال کے لیے گولڈن ویزا دیا جا سکتا ہے بشرطیکہ طالب علم کو فارغ التحصیل ہوئے دو سال سے زیادہ کا عرصہ نہ گذرا ہو، اس ادارے کو متحدہ عرب امارات کی وزارتِ تعلیم کی طرف سے دنیا کی 100 اعلیٰ یونیورسٹیوں میں سے ایک کا درجہ حاصل ہو اور طالب علم کا 3.5 یا اس سے زیادہ جی پی اے ہو۔

انسانی ہمدردی کے کام کے علمبردار

انسانی ہمدردی کے کارکن 10 سال کے لیے گولڈن ویزا کے اہل ہیں اگر انھوں نے بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں کے لیے کم از کم پانچ سال یا شہری تنظیموں اور عوامی مفاد کے اداروں کے لیے کم از کم پانچ سال کام کیا ہو۔

صفِ اول کے ہیرو

جن افراد نے کووڈ-19 وبا جیسے بحران سے نمٹنے میں غیر معمولی محنت کا مظاہرہ کیا ہے، وہ ایک تسلیم شدہ اتھارٹی کی سفارش کے ساتھ گولڈن ویزا کے اہل ہیں۔

صفِ اول کے ہیروز میں نرسیں، طبی معاونین، لیب ٹیکنیشن، فارماکالوجسٹ، اور فرنٹ لائن ہیروز آفس سے منظور شدہ دیگر کیڈرز شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں