کام کا چار روزہ ہفتہ: جرمنی کی اگلے چھ ماہ تک طویل اختتامِ ہفتہ کی آزمائش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

جرمنی 1 فروری 2024 سے سیکڑوں کارکنوں کے لیے کام کے چار روزہ ہفتے کی آزمائش کرے گا تاکہ طویل اختتامِ ہفتہ کے اثرات کا تعین کیا جا سکے۔

یہ آزمائش جس میں ملک بھر کی 45 کمپنیاں حصہ لیں گی، اس بات کا تجزیہ کرنے کے لیے تیار ہے کہ آیا تین دن کا اختتامِ ہفتہ ملازمین کو زیادہ خوش، صحت مند اور زیادہ نتیجہ خیز بنائے گا۔

جرمنی کی معیشت سست روی کا شکار رہی ہے کیونکہ توانائی کی بلند قیمت، ریکارڈ بلند شرحِ سود اور مزدوروں کی شدید قلت نقصان پہنچا رہی ہے۔

ملک کو ہنر مند کارکنوں کی کمی کا سامنا ہے بالخصوص اعلیٰ نمو کے شعبوں میں اور اعداد و شمار کے مطابق جرمنی کی معمر ہوتی ہوئی آبادی 2035 تک 7 ملین ہنر مند کارکنوں کی کمی کا شکار ہو جائے گی۔

اس کمی نے تمام صنعتوں میں ملازمین کو بہتر اجرت اور لچکدار اوقات کا مطالبہ کرنے پر اکسایا ہے۔

آزمائش کی قیادت کرنے والے غیر منافع بخش ادارے 4 ڈے ویک گلوبل کے مطابق ملازمین اسی تنخواہ پر فی ہفتہ کم گھنٹے کام کریں گے۔ پائلٹ کے کامیاب ہونے کے لیے ان کی کارکردگی پہلے جیسی یا زیادہ کامیاب ہونی چاہیے۔

پیداواری صلاحیت میں اضافے کے علاوہ ملازمین سے کم دن کی چھٹی لینے کی بھی توقع کی جاتی ہے - جو تناؤ، ماندگی اور بیماری کی کم سطح کا متوقع نتیجہ ہے۔

سرکاری ایجنسی یوروسٹیٹ کے مطابق کام کا ایک مختصر ہفتہ جرمنی میں لیبر مارکیٹ میں غیر استعمال شدہ صلاحیت کو بھی راغب کر سکتا ہے جس میں یورپی یونین میں جز وقتی کارکنان بشمول خواتین کی سب سے زیادہ تعداد شامل ہے۔

یکم جنوری 2022 کو متحدہ عرب امارات کے شارجہ نے اپنے ملازمین اور طلباء کے لیے سہ روزہ ویک اینڈ متعارف کرایا۔

کام کے چار روزہ ہفتے کے نفاذ کے ایک سال سے زیادہ عرصے کے بعد ایک سرکاری تحقیق میں پتا چلا کہ شارجہ کے ملازمین کی ملازمت کی کارکردگی، خوشی اور ذہنی صحت میں 90 فیصد اضافہ ہوا۔

جن ملازمین نے مختصر ہفتوں میں کام کیا، اس تحقیق میں ان میں ملازمت سے اطمینان میں 90 فیصد اضافہ بھی پایا گیا اور 84 فیصد جواب دہندگان نے کہا کہ نئی اصلاحات نے انہیں کام اور زندگی میں توازن حاصل کرنے میں مدد دی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں