300 ملین ڈالرکہاں سے حاصل کیے، علاء مبارک اور حسن ہیکل کے درمیان الزامات کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

مائیکرو بلاگنگ "ایکس" پلیٹ فارم پرمصر کے سابق صدر حسنی مبارک کے بیٹے علاء مبارک اور صحافی اور مصنف محمد حسنین ہیکل کے بیٹے حسن ہیکل کے درمیان مالیاتی اسکینڈل کےحوالے سے الزامات کا تبادلہ ہوا ہے۔ حسن ہیکل نے علاء مبارک پر کرپشن کرنے اور اس کے جواب میں علاء نے انہیں جھوٹ بولنے کا مرتکب قرار دیا۔

یہ واقعہ حسنی مبارک کے مستعفی ہونے سے قبل حکمران نیشنل پارٹی کے آخری سیکرٹری ڈاکٹر حسام بدراوی کے ایک ٹیلی ویژن انٹرویو کے بعد شروع سامنے آیا۔ جس میں انہوں نے بتایا کہ صدر حسنی مبارک نے استعفیٰ دینے سے قبل انہیں کہا تھا کہ وہ اپنے ملک کے لیے جان دینے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم صدر [حسنی مبارک] نے انہیں تین بار یقین دلایا کہ وہ اقتدار اپنے بیٹے جمال کو نہیں دے سکتے۔ یہ افواہ مصنف صحافی محمد حسنین ہیکل نے شائع کی تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ مبارک نے انہیں یقین دلایا کہ فسادیوں نے اس افواہ کو حکومت کا تختہ الٹنے کےلیے پھیلایا۔

لامتناہی جھوٹ

اس کے جواب میں علاء مبارک کے ایک فالورنے کہا کہ وراثت کی افواہ کے حوالے سے تاریخ مبارک کےساتھ انصاف کیا ہے۔علاء مبارک نے اس کا جواب دیتے ہوئے ایک ٹویٹ میں لکھا "یہ ایک بہت بڑا غدار ہے، ہیکل، وراثت کی افواہ کو اڑاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دستاویزات اور معلومات انہوں نے خود پڑھی ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ مبارک کی دولت 9 سے 11 بلین ڈالر کے درمیان ہے۔ جب احتساب عدالت نے انہیں طلب کیا۔ وہاں ان کی ایسی کوئی جائیداد ثابت نہیں ہوسکی۔

علاء مبارک کے ٹویٹ کے جواب میں حسن ہیکل نے ایک ٹویٹ کے ساتھ جواب دیا جس میں انہوں نے کہا کہ میں جواب دوں گا، حالانکہ میں سرکاری اور نجی میں فرق کرنے کی کوشش کر رہا ہوں۔

انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے مزید کہا کہ وراثت کے حوالے سے ہر کوئی اپنی رائے سے فیصلہ کر سکتا ہے اور دولت کے حوالے سے آپ کے نام پر نمبر غلط ہو سکتا ہے یا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ علاء مبارک نے اپنی زندگی میں ایک دن بھی کام نہیں کیا اس کے پاس 300 ملین ڈالر میں سوئٹزرلینڈ میں ایک مصدقہ ڈپازٹ ہے؟۔ یہ رقم کہاں سے آئی؟َ۔

الزامات کا جواب دینے پر زور

علاء مبارک نےحسن ہیکل کی ٹویٹ کا جواب دینے میں جلدی نہیں کی۔ مصری میڈیا میں ان سے اپنے والد کو بری کرنے ہوئے الزامات پر تبصرہ کرنے پر زور دیا ہے۔

اس کے بعد علاء مبارک نے ایک نیا ٹویٹ لکھا جس میں انہوں نے کہا کہ میں ان کے الفاظ پر تبصرہ نہیں کروں گا‘‘۔

علاء مبارک نے کہا کہ "آج تک انہوں نے اس بات کی وضاحت نہیں کی ہے کہ، ان کی واپسی کے بعد عدالت کے تمام مدعا علیہان کے سفر پرپابندی کے فیصلے کے باوجود کیس کی سماعت کے دوران وہ بیرون ملک سفر کیسے کر رہے تھے"۔

انہوں نے مزید کہا کہ "لیکن پروفیسرحافظ، آپ کے لیے اور ہراس شخص کے لیے جو سیاسی سازشوں سے ہٹ کر حقائق جاننا چاہتے ہیں، ہم نے اہل خانہ کے لیے وکلاء کی ٹیم سے متعدد، تفصیلی اور دستاویزی پریس بیانات جاری کرنے کے لیے کہا ہے۔ اور پے در پے فیصلوں اور احکام جو بیرون ملک اعلیٰ ترین عدالتی حکام کی طرف سے ہمارے خلاف جاری کیے گئے تھے۔

پبلک فنڈز پراسیکیوشن نے ہیکل کو طلب کیا

قابل ذکر ہے کہ 25 جنوری کے انقلاب کے پھوٹ پڑنے کے بعد حسن ہیکل کو پبلک فنڈز پراسیکیوشن میں طلب کیا گیا تھا تاکہ ان سے سابق صدر حسنی مبارک کے بیٹے جمال مبارک کی ملکیت والی کچھ کمپنیوں کے ساتھ ان کے کاروباری تعلقات کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا سکے۔ان پر تاجر یاسر الملوانی کے ساتھ کرپشن کے ایک بڑے کیس میں ملوث ہونے کا الزام عاید کیا گیا جس کے بعد وہ مصر سے باہر فرار ہو گئے۔

حسن ہیکل 17 فروری 2017 کو اپنے والد کی وفات تک باہر رہے۔ وہ اپنے والد محمد حسنین ہیکل کے جنازے میں حاضر نہیں ہوئے۔ اس وقت انہوں نے کہا تھا کہ وہ مفرور نہیں ہیں اور کسی کام کے لیے بیرون ملک ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں