بحیرہ احمرمیں حملوں سے شپنگ ٹریفک میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی ہے: آئی ایم ایف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

انٹرنیشنل مانیٹرفنڈ ’آئی ایم ایف‘ نے کہا ہے کہ فلسطین کی صورت حال کے تناظرمیں بحیرہ احمرمیں سکیورٹی کی خراب ہوئی صورتحال جہاز رانی کے اخراجات کے بارے میں تشویش پیدا ہوتی ہے۔

انہوں نے ایک رپورٹ میں مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے خطے میں علاقائی اقتصادی امکانات کے بارے میں ایک اپ ڈیٹ شامل ہے جس کی ایک کاپی عرب ورلڈ نیوز ایجنسی (AWP) کو موصول ہوئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں شپنگ لائنز پر ہونے والے حملوں کے بعد کئی کمپنیوں نے اپنے مال بردار بحری جہازوں کے لیے متبادل لائنز کا انتخاب کیا ہے۔

’آئی ایم ایف‘ نے مزید کہا کہ اس سلسلے میں اس سال کی پہلی ششماہی کے دوران نہر سوئز سے گذرنے والی تجارت نے عالمی تجارت کا تقریباً 12 فیصد حصہ بنایا، جس میں 30 فیصد عالمی کنٹینر ٹریفک، 10 سے 15 فیصد سمندری ترسیل اور 8 فیصد شامل ہے ایل این جی کی ترسیل شامل ہے۔

فنڈ نے نشاندہی کی کہ بحیرہ احمر میں حملوں کی وجہ سے شپنگ ٹریفک میں 30 فیصد کمی واقع ہوئی.

21 جنوری 2024ء کو 10 دنوں کے اندرنہر سے گذرنے والی ترسیل کے مجموعی حجم میں پچھلے سال کی اسی مدت کے مقابلے میں تقریباً 50 فیصد کمی واقع ہوئی۔

یورپ، بحیرہ روم اور چین کے درمیان روٹس کے لیے مال برداری کے اخراجات میں نومبر کے وسط سے 400 فی صد سے زیادہ اضافہ ہوا ہے، جو ممکنہ طور پر حفاظتی خطرات میں اضافے اور طویل ترسیلی راستوں سے منسلک ٹرانسپورٹ کے زیادہ اخراجات کی عکاسی کرتا ہے۔

دوسری جانب مانیٹری فنڈ نے کہا کہ ایسے خطرات ہیں جن کا خطے کو سامنا ہو سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں