برطانیہ کی بحیرہ احمر میں حوثی حملے روکنے کے لیے ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

برطانوی وزیر دفاع گرانٹ شیپس نے ایران پر زور دیا کہ وہ حوثیوں اور خطے میں موجود دیگر مسلح دھڑوں پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے تاکہ کشیدگی کو کم کیا جا سکے۔ انہوں نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر اپنے اکاؤنٹ پرایک ٹویٹ میں مزید کہا کہ "ہم مشرق وسطیٰ میں استحکام کے حصول کے لیے امریکا کے ساتھ مل کر کام جاری رکھے ہوئے ہیں"۔

اس تناظرمیں برطانوی دفتر خارجہ نے کہا کہ وزیر خارجہ ڈیوڈ کیمرون نے منگل کو سلطنت عمان کا دورہ کیا۔ جہاں وہ بحیرہ احمر میں جاری حوثیوں کے حملوں کےدوران علاقائی استحکام اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو کم کرنے پر زور دیں گے۔

دفتر خارجہ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ کے اپنے چوتھے دورے پر کیمرون اپنے عمانی ہم منصب بدر البوسعیدی سے ملاقات کریں گے تاکہ خطے میں کشیدگی کو کم کرنے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔

وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ بحیرہ احمر میں بین الاقوامی شپنگ کمپنیوں سے تعلق رکھنے والے بحری جہازوں پر حوثیوں کے حملے ان کی بات چیت کے اہم موضوعات میں شامل ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ کیمرون یمن کو امداد پہنچانے کے لیے برطانیہ کے عزم کا اعادہ کریں گے اور ان اقدامات کا تعین کریں گے جو برطانیہ حوثیوں کو بحیرہ احمر میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے روکنے کے لیے اٹھا رہا ہے۔

امریکا اور برطانیہ نے رواں ماہ یمن میں حوثیوں کے ٹھکانوں پر ایک سے زیادہ مرتبہ حملے کیے ہیں جس کا مقصد بحیرہ احمر میں نیوی گیشن کو خطرہ بنانے اور عالمی تجارت کو نقصان پہنچانے کے لیے گروپ کی صلاحیت کو کمزور کرنا ہے۔

ایرانی حمایت یافتہ یمنی حوثی بحیرہ احمر اور خلیج عدن میں تجارتی بحری جہازوں پر اپنے حملوں میں اضافہ کرتے جا رہے ہیں، جس سے امریکا پر ردعمل کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے۔

حوثیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ غزہ کی پٹی کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے اسرائیلی کمپنیوں کی ملکیت یا ان کے زیر انتظام ہیں یا اسرائیل سے سامان لے جانے والے جہازوں کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

خود کو "عراق میں اسلامی مزاحمت" کہنے والے مسلح عراقی دھڑوں کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ وہ "غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف اسرائیل کےہاتھوں جاری قتل عام کے جواب میں" عراق اور خطے میں امریکی افواج کو نشانہ بنا رہے ہیں۔

اب تک امریکی ردعمل جان بوجھ کر دیا گیا ہے اور بنیادی طور پر حملوں تک محدود رہا ہے جس کا مقصد ان گروپوں کی میزائل، راکٹ اور ڈرون لانچ کرنے کی صلاحیتوں کو کمزور کرنا ہے۔

اتوار کو اردن میں شام کی سرحد پر ایک ڈرون حملے میں تین امریکی فوجی مارے گئے۔ اس کے بعد پینٹاگان نے اعلان کیا کہ اس نے ایرانی حمایت یافتہ عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے "فنگر پرنٹس" حاصل کیے ہیں۔ واشنگٹن کو "ایک چیلنج" کے ساتھ پیش کیا جو اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ردعمل کافی سخت ہوگا۔

امریکی حکام مسلسل کہتے ہیں کہ وہ کشیدگی میں اضافہ نہیں چاہتے اور اب بھی امید کرتے ہیں کہ اس تنازعے پر قابو پالیا جائے گا جس سے پھیلنے کا خطرہ ہے۔

تازہ ترین حملے پر تبصرہ کرتے ہوئے وائٹ ہاؤس میں قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا تھا کہ "ہم ایران کے ساتھ جنگ نہیں چاہتے۔"

دوسری جانب ایران نے حملے میں ملوث ہونے کی تردید کی اور خطے میں کشیدگی میں اضافے کا انتباہ دیا لیکن واشنگٹن میں مڈل ایسٹ انسٹی ٹیوٹ کے ایلکس واٹنکا نے کہا کہ ہم ایک اہم موڑ پر ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں