سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو سزا سنائے جانا ایک قانونی معاملہ ہے: امریکہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان میتھیو ملر نے پاکستان میں خصوصی عدالت کی جانب سے سائفر کیس میں سابق وزیرِ اعظم عمران خان کو 10 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائے جانے پر کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایک قانونی معاملہ ہے۔

میتھیو ملر نے کہا "یہ پاکستان کی عدالتوں میں ایک قانونی معاملہ ہے۔ ہم سابق وزیراعظم کے خلاف اس مقدمے کو فالو کرتے آ رہے ہیں لیکن اس فیصلے پر کوئی تبصرہ نہیں کر سکتے۔ جیسا کہ ہم متواتر کہتے آ رہے ہیں کہ ہم پاکستان کے اندر جمہوری اصولوں، انسانی حقوق اور قانون کی حکمرانی پر زور دیں گے جیسا کہ ہم باقی دنیا سے کہتے ہیں۔"

منگل کے روز اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں معمول کی پریس بریفنگ کے دوران، ایک اور سوال کے جواب میں ترجمان سے یہ بھی پوچھا گیا کہ پاکستان کے اندر حکومتی ادارے اور دیگر جو انتخابات سے پہلے ایک اہم کلیدی شخصیت کے پیچھے ہیں اور عمران خان کو اقتدار سے دور رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ آپ کو نہیں لگتا کہ اس سے جمہوری ڈھانچے کو نقصان پہنچے گا؟

میتھیو ملر نے کہا،’’سابق وزیراعظم کے خلاف مقدمہ چلنا ایک قانونی معاملہ ہے۔ اور ہم یہ معاملہ پاکستانی عدالتوں پر چھوڑتے ہیں۔ لیکن ہم جو دیکھنا چاہیں گے وہ ایک ایسا جمہوری عمل ہے جس میں تمام جماعتوں کو شرکت کی اجازت ہو اور جمہوری اصولوں کا احترام ہو۔

انہوں نے اس پر زور دیا کہ ہم پاکستان کے اندرونی معاملات میں کوئی پوزیشن نہیں لیتے۔ ہم اس بارے میں کوئی موقف اختیار نہیں کرتے کہ کون سے امیدوار اقتدار کے لیے دوڑ میں ہیں۔ ہم غیر جانبدارانہ، شفاف انتخابی عمل چاہتے ہیں۔ لیکن جو قانونی معاملات ہیں، ان کا فیصلہ پاکستان کی عدالتوں کوکرنا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ہم آزادانہ اور شفاف الیکشن دیکھنا چاہیں گے۔ اور ہم مانیٹر کرتے رہیں گے کہ اگلے آٹھ دس دنوں میں اس ضمن میں کس طرح آگے بڑھا جا رہا ہے۔

اس موقع پر ایک صحافی نے سوال کیا کہ پاکستان کی عدالت فیصلہ کرے تو آپ کہتے ہیں قانونی معاملہ ہے، اگر وینیزویلا میں عدالت فیصلہ کرے تو آپ کہتے ہیں کہ سیاسی معاملہ ہے، اور وہاں کینگرو کورٹس ہیں۔ پاکستان کے اندر مقدمہ کی کارروائی کو خفیہ رکھا گیا ہے، عمران خان کے وکیل کو عدالت سے باہر بٹھایا گیا اور استغاثہ کی ٹیم سے ایک وکیل کو اٹھا کر عمران خان کا وکیل صفائی بنا دیا گیا۔ سو ایسی پراسیکیوشن بھی کینگرو کورٹ سے کم نہیں ہے۔ تو پھر یہ کیسے ہے کہ وینیزویلا میں معاملہ سیاسی ہے اور پاکستان میں قانونی ہے؟

اس سوال کے جواب میں میتھیو ملر نے انہیں دو مختلف معاملات سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو مختلف صورتیں ہیں، ہم پاکستان کے لیگل پراسس کے بارے میں ابھی تک کسی نتیجے پر نہیں پہنچے ہیں۔ وینیزویلا کی طرف دیکھیں تو وہاں مدورو حکومت کی پوری تاریخ ہمارے سامنے ہے جہاں جمہوریت کے خلاف کریک ڈاون ہوتا ہے۔ اور اس کیس میں ہم دیکھتے ہیں کہ وہ امیدواروں کو الیکشن میں حصہ لینے کی اجازت دینے کے وعدوں پر عمل میں ناکام رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں