سعودی مصنفہ ’غادہ المہنا‘ نے’’سعودی عرب میں اونٹ ‘‘کتاب کیوں لکھی؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

سعودی عرب کی مصنفہ غادہ المہنا نے اپنی نئی کتاب "سعودی عرب میں اونٹ" کا اجراء کیا ہے۔ مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں انہوں نے اس کاوش پر مسرت کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ "میں آج بے حد خوش ہوں، کیونکہ 2024 اونٹوں کا سال ہے۔ اونٹ ہماری اور عرب ثقافت کا صدیوں پرانا استعارا ہے۔ میں رواں سال کو سعودی عرب میں ’اونٹ کا سال‘ قرار دینے کے لیے وزارت ثقافت اور وزیر ثقافت شہزادہ بدر بن فرحان کاتہہ دل سے شکریہ ادا کرتی ہیں‘‘۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "پوری ایمانداری کے ساتھ یہ کتاب لکھنے کے لیے مجھ سے رابطہ کیا گیا تھا۔ میں نے انسانوں اور اونٹوں کے درمیان تعلقات کے بارے میں پہلے مضامین لکھے تھے اور مجھے لگتا ہے کہ ان مضامین کی اشاعت کی وجہ سے پبلشرز نے مجھ سے رابطہ کیا۔ میں نے "کتاب کے تصور کی منصوبہ بندی شروع کی اور میں نے اس مخلوق [اونٹ] کی تاریخی موجودگی پر بہت زیادہ توجہ مرکوز کرنے کی کوشش کی۔

مصنفہ غادة المهنا
مصنفہ غادة المهنا

تجربے کی تفصیلات

انہوں نے مزید کہا کہ "میں نے اونٹوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھا اور میں اپنی ثقافت کے ایک لازمی عنصر کے طور پر ان کی بہت زیادہ تعریف کرتی ہوں۔اس تجربے نے مجھے دکھایا کہ اس حیرت انگیز مخلوق کے بارے میں معلومات حاصل کرنا کتنا مشکل ہو سکتا ہے۔ یہ سب کچھ قابل قدر ہے۔ مجھے امید ہے کہ میں نے اسے کتاب میں اچھی طرح سے بیان کیا ہے"۔

انہوں نے کہا کہ "جہاں تک کتاب کی اہمیت کا تعلق ہے میں سمجھتی ہوں کہ کچھ لوگ اسے شاندار اور کچھ کو بہت خوبصورت قرار دیتے ہوں لیکن وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اونٹ جیسی یہ مخلوق ہمارے اتنے قریب کیسے ہے؟۔اونٹ صرف جزیرۃ العرب ہی میں نہیں بلکہ پوری دنیا میں موجود ہیں۔ مگر یہ مخلوق میری زبان، میرا ورثہ، میری تاریخ اور سب کچھ ہے۔ اس کی تاریخ جاننا میری ذمہ داری ہے"۔

کتاب کی رونمائی کی تقریب
کتاب کی رونمائی کی تقریب

سب سے اہم رکاوٹیں

سب سے اہم رکاوٹوں کے بارے میں غادہ نے کہا کہ معلومات کی کمی عام طور پر سب سے بڑی رکاوٹ ہوتی ہے جس پر مجھے قابو پانا پڑا ہے۔ اس پر قابو پانے کا طریقہ یہ ہے کہ سب سے زیادہ تجربہ کار لوگوں سے پوچھنا شروع کیا جائے۔ اگرآپ نہیں جانتے معلومات کے لیے سوال پوچھنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے۔ ذاتی طور پر مجھے اس کتاب کو لکھنے سے پہلے خوبصورتی کے بارے میں زیادہ علم نہیں تھا، لیکن ایک بار جب میں نے شروع کیا میں نے بہت سے لوگوں سے بات کی اور ان سے بہت کچھ سیکھا۔ میں ان لوگوں کی تہہ دل سے شکر گذار ہوں۔ میں ہمیشہ سیکھنے، بڑھنے، اور اپنے ورثے کو دنیا کے ساتھ بانٹنا جاری رکھنے کی خواہش رکھتی ہوں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ غادہ المہنا کا شمار سعودی عرب کی ممتاز خواتین لکھاریوں میں ہوتا ہے، جو سعودی معاشرے میں خواتین کی حیثیت کوفروغ دینےکے لیے کوشاں ہیں۔ وہ اپنی تحریروں کے ذریعے قارئین کو تحریک اور مشورے فراہم کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔

ان کے ادبی کاموں میں ’شمس العشق‘ نامی ناول نے بہت زیادہ شہرت اور پذیرائی حاصل کی۔ غادہ المہنا نے قلم اور قرطاس کو اپنی رائے اور ذاتی تجربات کے اظہار کا ایک ذریعہ بنایا۔ وہ اپنی تحریروں میں ایسی پرکشش کہانیاں اور حقیق واقعات پیش کرتی ہیں جنہیں عوامی حلقوں میں بہت پسند کیا جاتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں