فوجی مراکز کی حفاظت کے موضوع پر امریکی جرائد میں سعودی طالبہ تحقیقات کی اشاعت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

امریکی وزیر دفاع کے دفتر سے منظوری اور گرانٹ حاصل کرنے کے بعد سعودی عرب کی طالبہ بسمہ ابراہیم الخنجر کے ڈاکٹریٹ کے دوتحقیقی مضامین امریکا کے دو سائنسی جرائد میں شائع کیے گئے ہیں۔

بسمہ ابراہیم امریکا میں اسکالرشپ پر تعلیم حاصل کررہی ہیں۔ انہوں نے ڈاکٹریٹ کے مرحلے کی دونوں تحقیقی مضامین میں فوجی تنصیبات اور فوجیوں کی حفاظت کے حوالے سے دلچسپ تحقیق کی ہے جس دوںوں تحقیقات کو امریکا میں دو معتبر سائنسی جرائد میں شائع کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ سے بات کرتے ہوئے بسمہ نے کہا کہ "یہ تحقیق اس شعبے میں اپنی نوعیت کی پہلی کاوش سمجھی جاتی ہے۔ اسےAccess IEEE میگزین میں شائع کیا گیا تھا۔ یہ تحقیق آلات یا فوجیوں کے درمیان بھیجے جانے والے ڈیٹا کو خفیہ رکھنے پر کی گئی ہے۔ تاکہ حساس فوجی معلومات کی ہیکنگ کو روکا جا سکے۔۔

انہوں نے کہا کہ اس تحقیق میں ہم ایک طریقہ اپنانے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ طریقہ جعلی شناخت کنندگان اور شناختوں کی ایک مقدارکوخفیہ رکھنےاور انہیں حقیقی شناخت کے متبادل کے طور پر استعمال کا پتا چلانے کا ہے۔ یہ طریقہ حقیقی شناخت اور اس کے مقام تک رسائی یا یہاں تک کہ اسے ڈیکرپٹ کرنے کے امکان کو محدود کرتا ہے۔

جعلی شناخت کا استعمال

بسمہ نے نشاندہی کی کہ "دوسری تحقیق جریدے MDPI میں شائع ہوئی تھی۔ اس تحقیق میں اس بات پرتوجہ مرکوزکی گئی ہے کہ جعلی شناختوں کا استعمال کرتے ہوئے معلومات کیسے بھیجی جاتی ہیں۔ سائلنس پیریڈ نامی ایک تصور کو استعمال کرتے ہوئے تمام آلات اور فوجی جعلی شناخت کی نشاندہی میں مدد دی جا سکتی ہے۔ ساتھ ہی ایسے حالات میں اس تکنیک کو استعمال کرنے کی تحقیق میں تفصیل سے وضاحت کی گئی تھی، تاکہ ہیکر کو ٹریکنگ سے روکا جا سکے۔ اس کام کے لیے ایک تکنیک کا بھی استعمال کیا گیا جس میں اصل سائٹ کو انکرپٹ کرکے بھیجا گیا ہے"۔

قابل ذکر ہے کہ الجوف یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والی سعودی اسکالرشپ کی طالبہ نے امریکی وزیر دفاع کے دفتر سے تحقیقی گرانٹ حاصل کرنے کے بعد اسے امریکی سائنسی جرائد میں شائع کرانے میں کامیاب رہی۔ یہ تحقیق سائنس اور ریسرچ کے میدان میں سعودی خواتین کی صلاحیتوں اور انہیں با اختیار بنانے کے حوالے سے مملکت کے وژن کی عکاسی کرتی ہے۔

بسمہ الخنجر نے ’العربیہ ڈاٹ نیٹ‘ کو بتایا تھا کہ ان کی تحقیق کو امریکی وزیر دفاع کے دفتر سے ملنے والی گرانٹ میں ایک تحقیقی گروپ کے حصے کے طور پر شامل کیا گیا تھا جس کو امریکا میں ان کی موجودہ یونیورسٹی میں مالی اعانت فراہم کی گئی تھی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں