مصر اور آئی ایم ایف کے درمیان قرضے کا معاہدہ ہونے کے قریب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

مصری حکام نے انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے ساتھ جاری اپنے مذاکرات کی کامیابی کا اشارہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایک نظر ثانی شدہ قرضے کے لیے ہم معاہدے کے قریب پہنچ گئے ہیں۔ مصری حکام نے یہ بات العربیہ اور الحدث چینل کو بدھ کے روز بتائی ہے۔

اس معاہدے کے تحت مصری پاؤنڈ کی قدر میں کمی کی جائے گی جبکہ مالیاتی پروگرام میں 3 ارب ڈالر سے 7 ارب ڈالر یا اس سے بھی زیادہ کا اضافہ کیا جائے گا۔ نیز قرضے کی اس مدت میں بھی توسیع کی جائے گی۔

مصری حکام نے اپنی گفتگو میں آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے اہم نکات پر ڈالی۔ جن میں سب سے اہم بات مصری پاؤنڈ کی قدر میں کمی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بھی طے پایا ہے کہ مارکیٹ میں سرکاری اور غیر سرکاری سطح پر ڈالر کے ریٹ کا فاصلہ بھی کم کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ طے پانے والے نکات کے حوالے سے حکومتی اور سیاسی حکام کو اعتماد میں لیا جائے گا۔ اس لیے انہیں ابتدائی معاہدے کے مندرجات پیش کر دیے گئے ہیں۔ حکومتی اور سیاسی قیادت کی منظوری سے ہی اس معاہدے کو آگے بڑھایا جا سکے گا۔ تاہم ابھی حکام نے یہ نہیں بتایا کہ معاہدے پر باضابطہ دستخطوں کے لیے کوئی حتمی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔

مصری اخبار البورسا نے سرکاری حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ مصر اور آئی ایم ایف کے درمیان مصری پاونڈ کی قیمت کا تعین کھلا نہیں چھوڑا جائے گا بلکہ اسے آئی ایم ایف کے ساتھ مشاورت کی روشنی میں حکومت خود طے کرے گی۔ تاکہ قرضے کے لیے آئی ایم ایف کی عائد کردہ شرائط کو پورا کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق آئی ایم ایف کی ہدایات کی روشنی میں مصری پاؤنڈ کی قدر میں کمی بیشی کو گھنٹوں اور دنوں کے اندر منڈی کے تقاضوں کے مطابق طے کیا جائے گا۔ گویا معیشت کے میدان میں موجود عوامل کے پیش نظر پاومڈ کی قیمت میں کمی یا اضافہ بوقت ضرورت کیا جاتا رہے گا۔
اس وقت مصر اور آئی ایم ایف کے درمیان اضافی قرضے کے تحت معاملات چل رہے ہیں۔ تاہم 3 ارب ڈالر میں سے آئی ایم نے مصر کو ابھی تک 350 ملین ڈالر ادا کیے ہیں۔ پہلے اور دوسرے جائزے کے نتیجے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ آئی ایم ایف پروگرام انجماد کی طرف نہیں جا رہا ہے۔

آئی ایم ایف نے قرضے کی طے شدہ رقم کی ادائیگی کے لیے مختلف شرائط عائد کر رکھی ہیں۔ ابتدائی طور پر کرنسی کے تبادلے کی شرح کا تعین بھی معاہدے میں شامل ہے۔ جس کی رفتار نے مصری معیشت کو قدرے دھچکا لگا دیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں