آرمینیا کی بین الاقوامی فوجداری عدالت میں باضابطہ شمولیت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

حکام نے کہا کہ آرمینیا نے جمعرات کو بین الاقوامی فوجداری عدالت (آئی سی سی) میں باضابطہ طور پر شمولیت اختیار کر لی اور اس اقدام کو روایتی اتحادی ماسکو نے "غیر دوستانہ" قرار دیا ہے۔

ہیگ میں قائم عدالت نے مارچ میں یوکرین میں جنگ اور مبینہ طور پر بچوں کو غیر قانونی طور پر روس بھیجنے پر روسی صدر ولادیمیر پوتن کے گرفتاری کے وارنٹ جاری کیے تھے۔

یریوان اب روسی رہنما کو گرفتار کرنے کا پابند ہے اگر وہ اس کی سرزمین پر قدم رکھیں۔

بین الاقوامی قانونی معاملات کے لیے ملک کے سرکاری نمائندے یگیشے کراکوسیان نے اے ایف پی کو بتایا، "آئی سی سی روم کا قانون باضابطہ طور پر یکم فروری کو آرمینیا کے لیے نافذ ہوا۔"

کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے اکتوبر میں آرمینیا کی جانب سے آئی سی سی کے بانی روم کے قانون کی توثیق کو "غلط فیصلہ" قرار دیا تھا۔

روس کی وزارتِ خارجہ نے اسے "غیر دوستانہ قدم" قرار دیا۔

آرمینیا میں ایک مستقل روسی فوجی مرکز ہے اور ماسکو کے زیرِ قیادت فوجی اتحاد اجتماعی سلامتی معاہدہ تنظیم (سی ایس ٹی او) کا حصہ ہے جو کئی سابق سوویت جمہوریتوں پر مشتمل ہے۔

مغربی ممالک نے اس توثیق کو سراہا جو عدالت کے دائرۂ اختیار میں توسیع کی نشاندہی کرتا ہے جسے طویل عرصے سے روس کے عقبی حصےکے طور پر دیکھا جاتا تھا۔

اکتوبر میں آرمینیا کی جانب سے آئی سی سی کے قانون کی توثیق کے بعد یورپی یونین کی سربراہ ارسولا وان ڈیر لیین نے پوٹن کے حوالے سے کہا، "کریملن کے آمر حکمران کے لیے دنیا چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔"

’جنگی جرائم کی روک تھام‘

آرمینیا کے وزیرِ اعظم نکول پاشینیان نے کریملن کے خدشات کو یہ کہہ کر دور کرنے کی کوشش کی ہے کہ یہ فیصلہ روس کے خلاف نہیں تھا۔

کراکوسیان نے کہا کہ "آئی سی سی میں شمولیت آرمینیا کو جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کو اپنی سرزمین پر روکنے کے لیے سنجیدہ ذرائع فراہم کرتی ہے۔"

"سب سے پہلے اس کا تعلق آذربائیجان سے ہے،" یریوان کا سخت دشمن ہمسایہ جس کے ساتھ اس نے متنازعہ نگورنو کاراباخ علاقے پر دو جنگیں لڑی ہیں۔

لیکن آرمینیا کے اس اقدام نے ماسکو اور یریوان کے درمیان بڑھتی ہوئی کشمکش کی عکاسی کی جو کریملن سے ناراض ہے کہ اس نے آذربائیجان کے ساتھ آرمینیا کے دیرینہ تصادم کے حوالے سے بے عملی کا مظاہرہ کیا۔

ستمبر میں آذربائیجانی افواج کاراباخ میں داخل ہو کر پھیل گئیں -- جہاں روسی امن دستے تعینات ہیں -- اور آرمینیائی علیحدگی پسند افواج پر غلبہ حاصل کر لیا جنہوں نے کئی عشروں سے پہاڑی علاقے پر قبضہ کر رکھا تھا۔

آزاد تجزیہ کار ویگن ہاکوبیان نے اے ایف پی کو بتایا، "آرمینیا کو امید تھی کہ آئی سی سی میں شامل ہو کر اور روس کے لیے اتنا حساس قدم اٹھا کر وہ مغرب سے حفاظتی ضمانتیں حاصل کر سکتا ہے۔"

"لیکن بظاہر اس نے مغرب سے حقیقی تحفظ کی ضمانتیں حاصل کیے بغیر روس کے ساتھ تعلقات کشیدہ کر لیے ہیں۔"

آرمینیا نے 1999 میں روم کے قانون پر دستخط کیے لیکن ملک کے آئین سے تضاد کا حوالہ دیتے ہوئے اس کی توثیق نہیں کی تھی۔

آئینی عدالت نے گذشتہ مارچ میں کہا تھا کہ آرمینیا کی جانب سے 2015 میں نیا آئین اختیار کرنے کے بعد ان رکاوٹوں کو دور کر دیا گیا تھا۔

گزشتہ نومبر میں یریوان نے باضابطہ طور پر روم کے قانون کی توثیق کی دستاویز جمع کروائی۔

مقبول خبریں اہم خبریں