ایرانی پاسداران انقلاب نے اسرائیلی حملوں کے بعد اپنے افسروں کوشام سے واپس بلا لیا!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
5 منٹس read

شام میں اسرائیل کے شدید اور مسلسل حملوں کے بعد ایرانی پاسداران انقلاب کور نے شام میں تعینات سینیئر افسروں کو واپس بلا لیا ہے۔ اب پاسداران انقلاب کی کمان شام میں موجود اپنی حمایت یافتہ عسکری تنظیموں پر انحصار کرے گی۔

پچھلے ماہ پاسداران انقلاب کو شام میں اسرائیلی حملوں کے دوران ایک انتہائی سینیئر عہدیدار کی ہلاکت کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔ پچھلے 11 سال کے دوران یہ پاسداران انقلاب کے سب سے سینیئر افسر کی شام میں ہلاکت تھی۔ پچھلے سال دسمبر سے اسرائیلی فوج نے شام میں بمباری کر کے نصف درجن سے زیادہ پاسداران ممبرز کو ہلاک کیا ہے۔ ان میں انٹیلیجنس کے شعبہ سے وابستہ ایک اعلیٰ جرنیل بھی شامل تھے۔

تاہم بعض دیگر ذرائع کا کہنا ہے ایران شام سے انخلاء کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ چونکہ شام خطے میں ایرانی اثر و رسوخ کے حوالے سے ایک انتہائی اہم جگہ ہے۔

ایران فلسطینی تحریک مزاحمت حماس کا حامی ہے۔ تاہم براہ راست جنگ سے خود کو دور رکھتے ہوئے وہ لبنان، یمن، شام اور عراق کے راستے حماس کی مدد کر رہا ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ مزاحمتی تحریکیں اسرائیل اور امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچانے کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔

خطے میں ایرانی سیکورٹی حکام سے رابطے میں رہنے والے ذرائع کا کہنا ہے سینیئر ایرانی کمانڈرز نے اسرائیل کے حالیہ حملوں کے دوران اپنے درجنوں افسروں کو واپس تہران بلا لیا ہے۔ تاکہ شام میں ایرانی افسروں کی موجودگی کم نظر آسکے۔ البتہ ان ذرائع نے واپس جانے والے پاسداران افسروں کی متعین تعداد کا ذکر نہیں کیا۔

روئٹرز کے مطابق آزاد ذرائع سے ابھی اس بات کی تصدیق ہونا باقی ہے۔ اس بارے میں پاسداران اور شام کی وزارت اطلاعات دونوں نے ابھی تک روئٹرز کے سوالات کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے ایران نے شام کی جنگ کے دوران اپنے ہزاروں جنگجوؤں کو شام بھیجا تھا۔ ان میں پاسداران انقلاب کے اہلکار بھی شامل تھے۔ پاسداران انقلاب کے یہ ممبران شام میں ان جنگجوؤں کے لیے مشیران کے طور پر کام کر رہے تھے جو شام کے لیے لڑنے آئے تھے۔ اب ذرائع کا کہنا ہے کہ ایرانی پاسداران اپنے امور کو دور بیٹھ کر حزب اللہ کی مدد سے چلانے کی کوشش کرے گی۔ مگر حزب اللہ نے اس بارے میں ابھی تک دریافت کرنے کے باوجود کوئی جواب نہیں دیا ہے۔

ایک اور ذریعے کا کہنا تھا کہ شام میں پاسداران کے افسر ابھی شام میں موجود ہیں۔ انہیں صرف منظر سے ہٹایا گیا ہے۔ کیونکہ شام کو ایران چھوڑ کر جانے کے حق میں نہیں ہے۔ البتہ اپنے لوگوں کی نقل و حرکت اور موجودگی کو کھلے عام رکھنے کے برعکس پالیسی ہوسکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا تھا ایسی کوئی بھی تبدیلی شام میں ایرانی پاسداران کے 'آپریشنز' کو ہرگز متاثر نہیں کرے گی۔ البتہ شام میں افسروں کی کمی کرنے کی حکمت عملی سے اسرائیل اور غزہ کے درمیان جنگ سے ایران خؤد کو دور رکھنے کی کوشش کر سکے گا۔

اسرائیل نے شام پر اپنے حملوں کے بارے میں کم کم ہی تبصرہ کیا ہے اور نہ ہی اس نے اس طرح کے حملوں کی کبھی باضابطہ ذمہ داری قبول کی ہے۔ اسرائیلی فوجی حکام سے جب شام میں ایرانی پاسداران کی اس ڈویلپمنٹ کے بارے میں پوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا کہ وہ غیرملکی میڈیا رپورٹس پر تبصرہ نہیں کرتے۔

انٹیلیجنس کی خلاف ورزی

ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق 20 جنوری کو ہونے والے حملے میں پاسداران کے 5 ارکان مارے گئے تھے۔ جن میں قدس فورس کے لیے انٹیلیجنس کے فرائض سرانجام دینے والا جنرل بھی شامل تھا۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ پاسداران نے شامی حکام کے ساتھ اس بارے میں اظہار تشویش کیا ہے کہ پاسداران کی موجودگی کے حؤالے سے شامی سیکورٹی فورسز کے اندر سے معلومات باہر جا رہی ہیں۔ اسرائیل کے حالیہ حملوں میں انٹیلیجنس کی ان خلاف ورزیوں کا بھی کردار ہے۔

شام میں ایرانی پاسداران کی کارروائیوں اور سرگرمیوں سے آگاہ ایک ذریعے کا کہنا ہے اسرائیلی حملوں کے بعد پاسداران کے 'آپریشنز' سے متعلق مقامات اور افسران کی رہائش گاہوں کو دوسری جگہ پر منتقل کرنے کے لیے پاسداران افسران آمادہ ہوگئے ہیں۔

ایرانی پاسداران کے اہلکار 2011 میں شامی صدر بشار الاسد کی دعوت پر شام پہنچے تھے تاکہ اپوزیشن کو کنٹرول کرنے میں بشار حکومت کی مدد کرسکیں۔ کیونکہ اپوزیشن کی فورسز نے شام کے بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا۔ مگر اب پاسداران نے اپنی حمایت یافتہ ملیشیاؤں پر زیادہ انحصار کا فیصلہ کیا ہے۔

یوریشیا گروپ کے تجزیہ کار گریکوری بریو نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے ممبران کے نشانہ بننے سے ایران کی پوزیشن کمزور ضرور ہوئی ہے لیکن ایران شام میں اپنا مقام برقرار رکھنے اور شام میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کو اہم سمجھتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں