ایران کو خطے میں اپنے پراکسیوں کے حملوں پر تشویش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایسا لگتا ہے کہ غزہ پر اسرائیل کی جنگ کے نتیجے میں خطے میں بڑھتی کشیدگی اورعراق سے شام اور یمن تک اس کی وفادار ملیشیا کے حملوں نے ایران کو پریشان کرنا شروع کر دیا ہے۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس سے واقف حکام نے انکشاف کیا ہے کہ ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ تہران خطے میں اپنے کچھ ایجنٹوں کی کارروائیوں کی وجہ سے بے چین ہے۔

جمعرات کو نشر کی گئی’سی این این‘ کی رپورٹ کے مطابق ان ملیشیاؤں کی طرف سے شروع کیے گئے حملوں سے عالمی معیشت کے درہم برہم ہونے کا خطرہ ہے اور امریکہ کے ساتھ براہ راست تصادم کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

اردن کے حملے نے حیران کر دیا

متعدد عہدیداروں نے بتایا کہ مسلح عراقی ملیشیا کی جانب سے گذشتہ ہفتے ڈرون کے ذریعے اردن کی سرحد پر ٹاور 22 کو نشانہ بنایا گیا اور تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت نے تہران کو حیران کردیا۔ اس حملے نے ایران کی سیاسی قیادت کی تشویش میں اضافہ کردیا۔

امریکی انٹیلی جنس نے کہا کہ ایران کو تشویش ہے کہ یمن میں حوثی عسکریت پسندوں کی طرف سے بحیرہ احمر میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے اس کے دو اہم اتحادیوں چین اور بھارت دونوں کے اقتصادی مفادات کو غیر مستحکم کر سکتے ہیں۔

جنگ سے گریز!

حکام کو یقین نہیں ہے کہ تہران کی بڑھتی ہوئی احتیاط امریکی اور مغربی اہداف پر پراکسی حملوں کی حمایت کرنے کی اس کی وسیع حکمت عملی کو تبدیل کر دے گی۔ البتہ یہ اسے کچھ ایڈجسٹمنٹ کرنے پر مجبور کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران زیادہ احتیاط سے قدم اٹھا رہا ہے اور وہ جنگ سے بچنے کی پالیسی پرعمل پیرا ہے۔

واشنگٹن نے کہا ہے کہ اردن کے حملے کے بعد ایران اور اس کی پر اکسیوں کو جواب دیا جائےگا۔

کچھ امریکی عہدیداروں نے کہا کہ ردعمل کا عمل ایک ہفتے سے زیادہ طویل ہوسکتا ہے اور مختلف طریقوں اور مقاصد کے مطابق مختلف ہوسکتا ہے۔

قابل ذکر ہے کہ گذشتہ سال سات اکتوبرغزہ میں شروع ہونے والی جنگ نے علاقائی کشیدگی بڑھا دی اور جنگ کو کئی محاذوں اور میدانوں تک منتقل کردیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں