بائیڈن "مناسب اندازمیں"اردن حملے کاجواب دینے کے لیے اختیارات دیکھ رہے ہیں: وائٹ ہاوس

امریکہ نے اردن میں ایک امریکی اڈے پر ڈرون حملے کا ذمہ دار "عراق میں اسلامی مزاحمت" کو ٹھہرایا جس میں 3 امریکی مارے گئے۔

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو اعلان کیا، اردن میں ایک فوجی اڈے پر تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے پیچھے "عراق میں اسلامی مزاحمت" کا ہاتھ ہے۔

امریکہ کی قومی سلامتی کونسل کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ’’ہماری انٹیلی جنس کے مطابق یہ حملہ عراق میں اسلامی مزاحمت گروپ نے کیا ہے‘‘۔

قابل ذکر ہے کہ "اسلامی مزاحمت" ایک عراقی ملیشیا گروپ ہے جسے ایران کی حمایت حاصل ہے۔

یہ الزام ایک ایسے وقت میں دہرایا گیا ہے جب ایران نے بدھ کے روز دھمکی دی تھی کہ وہ اس پر کسی بھی امریکی حملے کا "فیصلہ کن جواب" دے گا، جب کہ امریکہ نے اس حملے کے فورا بعد ذمہ دار تہران کو ٹھہرایا تھا۔

امریکہ نے اشارہ دیا تھا کہ وہ اتوار کو ڈرون حملے کے بعد مشرق وسطیٰ میں جوابی حملے شروع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔

حملہ برج 22 کے مقام پر ہوا حس میں 40 فوجی زخمی بھی ہوئے۔ یہ شمال مشرقی اردن میں ایک اڈہ ہے جو پڑوسی ملک شام میں امریکی موجودگی کے لیے ضروری ہے۔

کربی نے بدھ کو کہا کہ امریکہ کا خیال ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی، وسائل اور سہولت کاری "عراق میں اسلامی مزاحمت" کے ذریعے کی گئی تھی۔ یہ ایک بڑا گروپ ہے جس میں مسلح گروپ کتائب حزب اللہ شامل ہے۔

مارے جانے والے فوجی
مارے جانے والے فوجی

کربی نے مزید کہا کہ امریکی صدر جو بائیڈن کا خیال ہے کہ مناسب انداز میں جواب دینا ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ بائیڈن حملے کا جواب دینے کے اختیارات کا مطالعہ جاری رکھے ہوئے ہیں، لیکن انہوں نے کہا کہ امریکہ "مناسب وقت اور انداز میں" جواب دے گا، انہوں نے مزید کہا کہ "یہ ایک بار کا واقعہ نہیں ہوگا۔"

انہوں نے کہا، "صرف اس لیے کہ آپ نے گذشتہ 48 گھنٹوں میں کوئی (جواب) نہیں دیکھا، اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ کو کچھ نظر نہیں آئے گا۔"

کربی نے عراقی حزب اللہ بریگیڈ ملیشیا کے اس بیان کی تردید کی، جس میں اس نے امریکی افواج کے خلاف "فوجی اور سکیورٹی آپریشنز" بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ گروپ کو سنجیدگی سے نہیں لیا جا سکتا، اور مزید کہا: "یہ واحد گروپ نہیں ہے جو ہم پر حملہ کر رہا ہے۔"

یہ خدشہ بڑھ رہا ہے کہ غزہ میں جاری اسرائیلی جنگ اور حوثیوں کی جانب سے بحیرہ احمر میں بحری جہازوں پر کیے جانے والے حملوں کی وجہ سے پہلے سے ہی کشیدہ خطے میں کسی بھی اضافی امریکی حملے سے بدامنی بڑھ سکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں