العربیہ ایکسکلوسیو

اونروا کی فنڈنگ تحقیقات کی تکمیل تک عارضی طور پر روکی ہے: آسٹریا

’دریا سے سمندر تک فلسطین کی آزادی‘جیسے نعرے اسرائیل کی تباہی کے مترادف ہیں، جو ناقابلِ قبول ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

آسٹریا کے وزیرِ خارجہ الیگزینڈر شلنبرگ نے کہا ہے کہ فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کی امدادی ایجنسی (اونروا) کے کچھ نمائندوں کے اسرائیل پر حملے میں ملوث ہونے کے شبہے میں آسٹریا کی جانب سے اونروا کی فنڈنگ روکی گئی ہے۔ یہ فنڈنگ مکمل طور پر نہیں روکی بلکہ اسے شفاف تحقیقات کی تکمیل تک عارضی طور پر روکا گیا ہے۔

ان خیالات کا اظہار آسٹریا کے وزیرِ خارجہ الیگزینڈر شلنبرگ نے العربیہ کے رض خان کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔ انٹرویو میں انہوں نے اسرائیل-فلسطین تنازعہ اور آسٹریا کے خارجہ تعلقات پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے کئی اہم بین الاقوامی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔

انہوں نے اقوام متحدہ کی غیر جانبداری کی اہمیت اور خاص طور پر شرقِ اوسط میں اعتماد کو برقرار رکھنے کے لیے مکمل تحقیقات کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے کہا، "اگر اونروا کے ملازمین پر سات اکتوبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے سنگین الزامات ہیں تو کم از کم ہمیں فوری اور مکمل تحقیقات کا مطالبہ کرنا چاہیے۔"

انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ فنڈنگ معطل ہونے کے دوران آسٹریا نے ریڈ کراس اور ورلڈ فوڈ پروگرام جیسی تنظیموں کے ساتھ تعاون بڑھاتے ہوئے غزہ کے لیے اپنی مجموعی امداد میں اضافہ کیا۔ امداد میں یہ اضافہ غزہ میں انسانی بحران سے نمٹنے کے لیے آسٹریا کے عزم کی عکاسی کرتا ہے۔

اسرائیل-فلسطین تنازع پر یورپی مؤقف

اسرائیل-فلسطین تنازعہ پر یورپی ممالک کے مؤقف کے وسیع تر مضمرات کے بارے میں شلنبرگ نے آزادی اظہار کی حمایت اور تشدد پر اکسانے کی روک تھام کے درمیان توازن کو نمایاں کیا۔

انہوں نے کہا کہ "دریا سے سمندر تک، فلسطین کو آزاد ہونا ہے" جیسے نعروں کو اسرائیل کی تباہی کے مطالبات سمجھا جا سکتا ہے جو ناقابلِ قبول ہے۔ شلنبرگ نے دو ریاستی حل کے لیے آسٹریا کے عزم کا اعادہ کیا کہ یہ خطے میں امن کا واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔

آسٹریا کے وزیرِ خارجہ نے کہا، "دو ریاستی حل اور حالات کا معمول پر آنا واحد راستہ ہے۔ نہ اسرائیلی اور نہ ہی فلسطینی کسی طرح سے ہوا میں غائب ہو جائیں گے اس لیے ہمیں فوری طور پر ایک ایسا سیاسی عمل تلاش کرنا ہوگا جو فلسطینیوں اور اسرائیلیوں کو ساتھ ساتھ امن و سلامتی سے زندگی گزارنے کا باعث بن سکے۔"

روس-یوکرین تنازعہ میں آسٹریا کی غیر جانبداری

اس کے بعد گفتگو کا رخ بین الاقوامی تعلقات میں آسٹریا کی غیر جانبداری بالخصوص روس-یوکرین تنازعہ کی طرف منتقل ہو گیا۔

شلنبرگ نے بین الاقوامی قانون کے احترام کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے آسٹریا کی طرف سے یوکرین پر روس کے حملے کی شدید مذمت کا اعادہ کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا یہ جنگ اسرائیل-فلسطینی تنازعہ کی صورتِ حال جیسی نہیں ہے جہاں محرکات مختلف ہیں جس میں زمینی تنازعہ اور دیرینہ جغرافیائی سیاسی تناؤ شامل ہے۔

"سات اکتوبر کو جو ہوا تھا اور مجھے بہت واضح طور پر یاد ہے جب یہاں ویانا میں ہماری سروس نے مجھے فون کیا اور پوچھا، 'وزیر، آپ کے اعصاب کتنے مضبوط ہیں؟' اور میں نے کہا خوش قسمتی سے مضبوط ہیں۔ اور پھر مجھے ویڈیوز اور تصاویر بھیجی گئیں جو میں نے داعش کے بعد سے نہیں دیکھی ہیں۔ میرا مطلب ہے یہ خالص دہشت گردی ہے۔ یہ ایک ایسا قتلِ عام ہے جس کا جنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے جیسا کہ ہم اسے یورپ میں دیکھتے ہیں جہاں ایک خودمختار ملک دوسرے پر حملہ کرتا ہے۔

آسٹریا کا روسی گیس پر انحصار

روسی گیس پر آسٹریا کے انحصار پر بات کرتے ہوئے شلن برگ نے تنقید کو تسلیم کیا لیکن 2027 تک روسی توانائی سے آزاد ہونے کے لیے آسٹریا کی کوششوں پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے توانائی کے ذرائع کو متنوع بنانے میں خشکی میں گھرے ممالک کو درپیش چیلنجوں کی نشاندہی کی اور قابلِ تجدید توانائی کے لیے آسٹریا کے عزم پر زور دیا۔

وزیرِ خارجہ نے کہا، " ہم نے یہ واضح کر دیا کہ ہم روسی گیس سے آزاد ہونا چاہتے ہیں اور 2027 تک یہ کام مکمل ہو جائے گا۔ ہم نے روسی گیس پر انحصار 80 فیصد سے کم کر کے 50 فیصد تک کر دیا ہے۔ لیکن ہم یورپی برِ اعظم کے وسط میں ایک خشکی سے گھرا ملک ہیں اور خوش قسمتی سے ہم قابلِ تجدید ذرائع سے اپنی بقایا 20 فیصد بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔"

انٹرویو کے اختتام پر شلنبرگ نے عالمی سلامتی خاص طور پر جوہری تنازعے کے خطرے اور روبوٹک ہتھیاروں کے بارے میں خدشات کا اظہار کیا۔

زمین پر دیگر مقامات کو نظر انداز کر دیں'

اس کے بعد شلنبرگ نے دنیا کی ایک ساتھ متعدد بحرانوں پر توجہ مرکوز کرنے کی صلاحیت کے بارے میں اپنے خدشات کا اظہار کیا۔ انہوں نے مختلف سکیورٹی خطرات سے نمٹنے کے لیے عالمی نگرانی کی اہمیت کو نمایاں کرتے ہوئے خبردار کیا کہ ایک بحران کی زد میں آنے کے بعد ہم دوسرے بحرانوں کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔

"ہمارے پاس کرۂ ارض پر بہت سی جگہیں ہیں جہاں بحران کسی بھی وقت وارد ہو سکتے ہیں اور ہمیں انتہائی محتاط رہنا ہو گا تاکہ یہ تأثر نہ ملے کہ ہم صرف ایک ہی بحران میں مکمل طور پر غرق ہیں اور یہ کہ ہم اس سیارے پر دیگر مقامات کو نظر انداز کرتے ہیں۔"

مقبول خبریں اہم خبریں