ترکیہ:امریکی فیکٹری میں یرغمالیوں کوبازیاب کرلیا گیا،حملہ آورباتھ روم جانے پرپھنس گیا

حملہ آور فیکٹری میں ملازم تھا اور غزہ میں جاری جنگ کی طرف "توجہ مبذول کروانا چاہتا تھا"

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

ترکیہ میں جمعرات کو پولیس نے استنبول کے قریب امریکی کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل کی ایک فیکٹری سے فلسطینیوں کے حامی مسلح شخص کے ہاتھوں یرغمال بنائے گئے ایک گروپ کو رہا کرا لیا۔

ڈسٹرکٹ گورنر سدار یاووز نے صحافیوں کو بتایا کہ نو گھنٹے کی مزاحمت کے بعد"حملہ آور جب باتھ روم جانے کے لیے باہر نکلا تو ہماری سکیورٹی فورسز نے یرغمالیوں کو نقصان پہنچائے بغیر آپریشن کیا،"

انہوں نے بتایا کہ حملہ آور کو گرفتار کر لیا گیا۔

ترک صوبے کوج ایلی کے گورنر نے تصدیق کی کہ پولیس نے ایک مسلح شخص کو گرفتار کیا ہے جس نے کل، جمعرات کو ملک کے شمال مغرب میں واقع پراکٹر اینڈ گیمبل فیکٹری کے کارکنوں کو یرغمال بنایا تھا، اور ساتوں افراد کو بازیاب کرالیا گیا۔

ان کے مطابق، حملہ آور کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کے بعد ریسکیو آپریشن شروع ہوا۔

یرغمالیوں کو کوئی نقصان نہیں پہنچا

حملہ آور فیکٹری میں ملازم تھا جو غزہ میں جاری جنگ کی طرف "توجہ مبذول کروانا چاہتا تھا"۔

ترک خبر رساں ایجنسی نے اس سے قبل اطلاع دی تھی کہ یرغمال بنانے والا مقامی وقت کے مطابق شام تین بجے کے قریب صوبہ کوج ایلی کے گیبز صنعتی زون میں واقع فیکٹری میں داخل ہوا، انہوں نے مزید کہا کہ پولیس جائے وقوعہ پر پہنچی اور اسے قائل کرنے کی کوشش کی۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یرغمالیوں میں چھ مرد اور ایک خاتون شامل ہیں۔

مقامی میڈیا کی طرف سے شائع ہونے والی ایک تصویر میں فیکٹری کے اندر ایک شخص کو دکھایا گیا ہے، جس نے فلسطینی اسکارف سے چہرہ چھپایا ہوا تھا۔

ایک نجی نیوز ایجنسی نے ایک تصویر شائع کی جو سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے کہ مبینہ حملہ آور بندوق اٹھائے ہوئے ہے اور اس نے دھماکہ خیز جیکٹ پہن رکھی ہے۔

جائے وقوعہ کی ایک اور تصویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ حملہ آور ایک ہاتھ میں ہتھیار لیے ہوئے ہے اور دوسرے ہاتھ سے فتح کا نشان بنا رہا ہے، وہ ایک دیوار کے سامنے کھڑا ہے جس پر ترکیہ اور فلسطین کے جھنڈے آویزاں تھے اور غزہ کی حمایت میں ایک جملہ لکھا ہوا تھا۔

فیکٹری کے باہر سے لی گئی تصاویر میں دکھایا گیا ہے کہ پولیس وسیع و عریض فیکٹری کو گھیرے میں لے رہی ہے۔

قابل ذکر ہے کہ ترکیہ میں پراکٹر اینڈ گیمبل استنبول اور کوج ایلی کے تین مقامات پر 700 افراد کو ملازمت دیتی ہے۔

دیوہیکل کمپنی صفائی اور حفظان صحت کے برانڈز جیسے ایریل واشنگ پاؤڈر اور اورل بی ٹوتھ پیسٹ تیار کرتی ہے۔

تنازع شروع ہونے کے بعد سے ترکیہ میں اسرائیل اور اس کے اہم اتحادی امریکہ کے خلاف عوامی جذبات میں اضافہ ہوا ہے، بڑے شہروں میں فلسطینی عوام کی حمایت میں باقاعدہ احتجاجی مظاہرے کیے گئے اور فوری جنگ بندی کا مطالبہ کیا گیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ کے آغاز کے بعد سے، ترک صدر رجب طیب اردگان نے بارہا اسرائیل کو "دہشت گرد ریاست" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ حماس تحریک، جسے یورپی یونین اور امریکہ سمیت متعدد ممالک "دہشت گرد" گروہ سمجھتے ہیں ، دراصل ایک "آزادی کی تحریک" ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں