ترکیہ میں ایک امریکی فیکٹری میں حملہ آور نے لوگوں کو یرغمال بنا لیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
1 منٹ read

جمعرات کے روز ایک حملہ آور نے استنبول کے قریب امریکی کمپنی پراکٹر اینڈ گیمبل کی ملکیتی ایک فیکٹری میں غزہ کی پٹی میں جنگ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے لوگوں کو یرغمال بنا لیا۔

ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا کہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہو سکا کہ استنبول کے مشرقی مضافات میں واقع اس فیکٹری میں کتنے افراد کو یرغمال بنایا گیا ہے۔

7 یرغمال بنائے گئے

فیکٹری میں مزدوروں کی نمائندگی کرنے والی ایک یونین نے وضاحت کی کہ حملہ آور نے سات افراد کو یرغمال بنا رکھا تھا۔ اس کا کہنا تھاکہ باقی مزدوروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔

نجی ڈی ایچ اے نیوز ایجنسی کی طرف سے جاری ایک تصویر سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے جس میں مبینہ حملہ آور بندوق اٹھائے ہوئے ہے اور اس نےبارودی جیکٹ پہن رکھی ہے۔

"غزہ کے لیے"

حملہ آور فلسطینی پرچم کے ایک ڈرائنگ کے قریب کھڑا تھا جب کہ دیوار پر سرخ رنگ میں "غزہ کے لیے" کا جملہ لکھا ہوا تھا۔

سائٹ کی تصاویر میں پولیس کو کاسمیٹکس بنانے والی وسیع و عریض فیکٹری کا محاصرہ کرتے دکھایا گیا ہے۔

ترک میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ خصوصی آپریشن ٹیمیں اور ایمبولینسیں جائے وقوعہ کی طرف روانہ ہو گئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں