اسرائیل نے غزہ جنگ میں حد سے تجاوز کیا: 50 فیصد امریکیوں کا سروے میں جواب

70 فیصد امریکیوں کے مطابق وہ بائیڈن کی اسرائیل کے حوالے سے پالیسیوں کے حق میں نہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
7 منٹس read

امریکی عوام کی نصف تعداد غزہ میں پندرہ ہفتوں سے جاری جنگ کو حدود سے آگے نکل جانے والی جنگ قرار دیتی ہے۔ اسرائیل کے جنگ میں بہت آگے بڑھ جانے کو عوامی سطح پر ری یپبلیکنز اور آزادانہ سیاست کرنے والوں کے ہاں قبولیت نہیں مل رہی ہے۔ امریکی نوجوانوں کی 70 فیصد آبادی نے اسرائیلی جنگ اور اس کے بارے میں امریکی پالیسی کے لیے قبولیت نہیں۔

اس امر کا اظہار امریکی خبر رساں ادارے اے پی اور این او آر سی سینٹر فار پبلک افیئرز ریسرچ کے ایک تازہ سروے میں سامنے آیا ہے۔ سروے میں اسرائیل کے لیے حمایت کے ساتھ ساتھ جوبائیڈن انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے کو ہینڈل کرنے کی حمایت کی ہے۔

سروے کے مطابق 31 فیصد امریکی بالغ شہری جوبائیڈن کی پالیسی کے حامی ہیں۔ جبکہ ڈیموکریٹس میں 46 فیصد لوگ جوبائیڈن انتظامیہ کی پالیسی کے ساتھ ہیں۔ تاہم خیال رہے کہ یہ حمایت اس 7 اکتوبر کے بعد سے اب تک جاری جنگ میں آغاز کے مقابلے میں نسبتاً زیادہ ہے۔

نیو جرسی کی رہنے والی 36 سالہ ملیسا مورالس کے مطابق وہ ہر روز غزہ میں ہونے والی بچوں کی ہلاکتوں کی تصویریں اور خبریں دیکھتی ہیں تو ان کے ذہن میں ان کا 3 سالہ بچہ آجاتا ہے۔ مورالس نے مزید کہا 'میں ان سارے واقعات کو ایسے تصور کر سکتی ہوں کہ جیسے میرا بیٹا تحفظ کے لیے گلیوں میں مارا مارا پھر رہا ہو۔ وہ اپنی ماں کو تلاش کر رہا ہو یا محض کسی شناسا اور ہمدرد کی تلاش میں ہو۔'

مورالس نے یہ بھی کہا 'اسرائیل جنگ میں بہت آگے چلا گیا ہے اور اسرائیل کی حمایت میں جوبائیڈن انتظامیہ بھی حد سے آگے نکل گئی ہے۔' خیال رہے جوبائیڈن انتظامیہ اسرائیلی فوج کی 7 اکتوبر سے شروع ہونے والی جنگ کے پہلے گھنٹوں سے ہی مدد کے لیے موجود ہے۔ اس جنگ میں اب تک اسرائیل کے 1200 لوگ مارے گئے ہیں جبکہ فلسطینیوں کی غزہ میں ہلاکتوں کی تعداد 27131 ہوچکی ہے۔

مورالس چاہتی ہیں کہ 'فلسطینی بچوں کے لیے اس جنگ کو اب بند کر دیا جائے۔ کیونکہ یہ ایک واقعے ناجائز جنگ ہے۔'

کیلیفورنیا کے علاقے کلووس کے رہائشی اور سائبر سیکیورٹی کے ماہر جان میلور خود کو ایک ری پبلیکن مگر آزادنہ ووٹ کرنے والا شہری قرار دیتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ وہ 100 فیصد حد تک اسرائیل کے ساتھ ہیں۔ تاہم میلور اپنے اردگرد کے نوجوانوں کے بارے میں کہتے ہیں کہ امریکی نوجوان اسرائیل کے خلاف بات کرتے ہیں۔

میلور نے بتایا کہ وہ اپنے کنبے کے دوست گھرونے کے لوگوں سے ملنے کے لیے گئے تو انہیں یہ دیکھ کر سخت صدمہ ہوا کہ ان کے دوست کا بیٹا اسرائیل کو سخت جنگجو قرار دے رہا تھا۔

اے پی کے اس سروے میں بتایا گیا ہے کہ ری پبلیکن پارٹی کے حامیوں کی 33 فیصد تعداد یہ سمجھتی ہے کہ اسرائیل نے اس جنگ میں حدیں پار کردی ہیں۔ ماہ نومبر میں ری پبلیکن پارٹی کے 18 فیصد حامی یہ رائے رکھتے تھے۔

آزاد رائے رکھنے والے امریکی شہری جو نومبر میں 39 فیصد تھے اب بڑھ کر 52 فیصد ہوگئے ہیں۔ وہ بھی یہی سمجھتے ہیں کہ اسرائیل جنگ میں بہت تجاوز کر رہا ہے۔

دوسری جانب ڈیموکریٹس کے حوالے سے سروے کا کہنا ہے کہ ڈیموکریٹس میں 63 فیصد لوگ اسرائیل کی اس جنگ کے بارے میں یہی احساسات رکھتے ہیں، ڈیموکریٹس کے ہاں ماہ نومبر میں بھی اکثریتی عوام کی رائے یہی تھی۔ ان سارے طبقات کی مجموعی تعداد کو دیکھا جائے تو 50 فیصد امریکی بالغ شہری اسرائیلی جارحانہ حملوں کو حد سے بڑھے ہوئے قرار دیتے ہیں۔

ماہ نومبر میں امریکی بالغ شہریوں میں سے 40 فیصد کی یہ رائے تھی کہ اسرائیل کو جو رد عمل ظاہر کرنا چاہیے تھا اس سے بہت بڑھ کر رد عمل ظاہر کر رہا ہے۔ مگر اب تازہ سروے میں امریکی بالغ شہریوں کی یہ تعداد 50 فیصد ہوگئی ہے۔

واضح رہے خبر رساں ادارے اور این او آر سی کے اس مشترکہ سروے کا اہتمام 25 سے 28 جنوری کے دوران کیا گیا ہے۔ اتفاق سے یہ سروے ان دنوں ہوا جب اردن میں ایک حملے کے دوران 3 امریکی فوجی مارے گئے تھے۔ امریکی حکام اردن میں وہنے والے اس واقعے کی ذمہ داری حماس کی اتحادی ملیشیا پرڈالتے ہیں۔

تازہ سروے میں سامنے آنے والے حقائق صدر جوبائیڈن کے لیے پریشان کن خبر کی حیثیت رکھتے ہیں کہ ان کی اپنی سیاسی جماعت میں بھی ان کی پالیسی سے مختلف رائے سامنے آرہی ہے۔ اس طرح امریکہ میں صدارتی انتخاب کا سال ہونے کے دوران ڈیموکریٹس کے اندر دراڑیں پید اہو رہی ہیں۔

بعض ڈیموکریٹس کا کہنا ہے جوبائیڈن کو اسرائیل کے بارے میں اپنی پالیسی کا جائزہ لینے کی ضرورت ہوگی۔ اگر وہ دوسری بار بھی صدر منتخب ہونا چاہتے ہیں۔ اسی سروے میں بتایا گیا ہے کہ سفید فام امریکی ڈیموکریٹس کے علاوہ امریکی ڈیموکریٹس میں سے 60 فیصد جوبائیڈن کی اسرائیلی جنگ کے دوران حمایت کی پالیسی سے اتفاق نہیں رکھتے۔ جبکہ مجموعی طور پر ڈیموکریٹس کی نصف تعداد جوبائیڈن کی حمایت نہیں کرتی۔

امریکی نوجوانوں کے حوالے سے اس سروے سے معلوم ہوتا ہے کہ 45 سال سے نیچے کے 70 فیصد ڈیموکریٹس بھی صدر جوبائیڈن کی مذکورہ بالا پالیسی کے خلاف ہیں۔ جبہ بڑی عمر کے ڈیموکریٹس میں یہ تناسب 60 فیصد ہے۔

شکاگو سے تعلق رکھنے والی سارہ جیکسن 31 سالہ ڈیموکریٹ ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ 'جوبائیڈن کی اسرائیل اور فلسطینیوں دونوں کے لیے اس جنگ کے دوران سوچ بالکل ٹھیک رہی ہے۔ مگر وہ اس کے ساتھ یہ بھی کہتی ہیں کہ جس طرح اسرائیل کی فضائی اور زمینی حملے جاری ہیں اس میں امریکہ کو اسرائیل کے لیے اپنی حمایت ختم کرنے کے طریقے کی طرف جانا ہوگا۔

سارہ جیکسن کا کہنا ہے کہ 'میں شروع میں اسرائیل کے بارے میں اسی پالیسی کی حامی رہی ہوں کیونکہ میں سمجھتی تھی کہ انہیں اس طرح کی حمایت کی ضرورت ہے۔ لیکن اب میں صورتحال دیکھ کر زیادہ پریشان ہو جاتی ہوں۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ یہاں پر ایک نیا لیڈر عہدہ سنبھالے گا اور اسرائیل کے لیے موجودہ حمایت ختم ہو کر رہ جائے گی۔'

جوبائیڈن انتظامیہ کی اسرائیلی جنگ کے بارے میں پالیسی کے تقریباً 70 فیصد مخالف ڈیموکریٹس سمجھتے ہیں کہ فوری طور پر امریکہ کو مستقل جنگ بندی کے لیے مدد کے لیے آگے بڑھنا چاہیے۔

امریکی بالغ شہریوں کی نصف آبادی کی رائے میں غزہ میں جاری جنگ آنے والے دنوں میں مشرق وسطیٰ تک وسعت پکڑ سکتی ہے۔

35 فیصد شہری یہ سمجھتے ہیں کہ امریکہ اور اسرائیل ایسے اتحادی ہیں جن کے مفادات اور اقدار یکساں ہیں۔ 36 فیصد امریکیوں کی رائے یہ ہے کہ امریکہ نے فلسطینیوں کی کافی حمایت نہیں کی ہے۔ 60 فیصد کے خیال میں یرغمالیوں کی رہائی اہم ہے۔ مگر 30 فیصد کے خیال میں ضروری ہے کہ اسرائیلی فوج کو امریکی امداد ملتی رہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں