شرق اوسط

امریکہ نے عراق اور شام میں کن اہداف کو نشانہ بنایا؟ تفصیلات جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

کئی دنوں سے امریکا کے عراق اور شام میں ایران نواز گروپوں کے خلاف حملوں کے امکانات کے بعد گذشتہ شب آخر کار امریکی ردعمل آگیا۔

گذشتہ ہفتے اردن اور شام کی سرحد پر امریکی ٹاور 22 اڈے پر ڈرون حملے میں متعدد امریکی فوجیوں کی ہلاکت اور زخمی ہونے کے بعد امریکا نے اس کا سخت جواب دینے کا اعلان کیا تھا۔

اس حوالے سےگذشتہ شب امریکہ نے مغربی عراق اور مشرقی شام میں اہداف پر حملے شروع کیے،جہاں ایران نواز ملیشیا تعینات تھیں۔ امریکا کا دعویٰ ہے کہ حملوں کی زد میں آنے والے گروپ ہی اردن کی سرحد پر امریکی اڈے پر حملے میں ملوث تھے۔

کہاں کہاں حملے کیے گئے؟

گذشتہ شب امریکی فوج نے شام اور عراق میں مجموعی طور پر 85 مقامات پر 125 میزائل داغے۔ یہ بم امریکی B-1 بمبار طیاروں کے ذریعے کیے گرائے گئے جن میں ایران نواز عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں اور تنصیبات بالخصوص عراقی حزب اللہ بریگیڈز کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

ان سہولیات میں کمانڈ آپریشنز، انٹیلی جنس مراکز، میزائلوں، راکٹوں اور ڈرونز کو ذخیرہ کرنے کی جگہیں شامل ہیں۔

امریکی B1 بمبار طیارہ۔
امریکی B1 بمبار طیارہ۔

گودام اور ہوائی اڈے

شام میں کیے گئے حملوں میں ملک کے مشرق میں دیر الزور شہر اور اس کے دیہی علاقوں میں متعدد ایرانی ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا۔

دیر الزور میں پورٹ سعید روڈ پر اور عیاش قصبے میں اسلحے اور گولہ بارود کے ڈپو کو نشانہ بنایا اور ساتھ ہی دیرالزور شہر کے قریب فوجی مقامات کے علاوہ العمال محلے اور البوکمال میں ایک ڈرون فیکٹری کو بھی نشانہ بنایا۔

العربیہ اور الحدث کو ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ دیر الزور شہر اور دیر الزور فوجی ہوائی اڈے کے درمیان ھرابش اور حویجہ صکر کے علاقوں کے علاوہ صحرائے المیادین میں الحیدریہ فارموں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔

تازہ ترین حملے دیر الزور ملٹری ہوائی اڈے اور دیر الزور میں کالج آف ایجوکیشن کے آس پاس کے علاقوں پر بھی کیے گئے۔

حملوں کے نتیجے میں متعدد انسانی جانیں گئیں، لیکن ابھی تک تعداد کا تعین نہیں ہو سکا ہے۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے وضاحت کی کہ المیادین، البوکمال اور دیر الزور شہر میں 26 مقامات کو نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ملیشیا کے 18 ارکان ہلاک ہوئے ہیں۔

عراق میں حزب اللہ بریگیڈز اور اور حشد ملیشیا نشانے پر

عراق میں کی گئی بمباری میں سرحدی علاقوں خاص طور پر القائم کو نشانہ بنایا گیا۔اس کے علاوہ الانبار میں بھی بمباری کی گئی جہاں الحشد ملیشیا کے مراکز کو تباہ کیا گیا۔

اس تناظر میں عراقی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار نے ’اے ایف پی‘ کو اپنی شناخت مخفی رکھتے ہوئے بتایا کہ "القائم کے علاقے میں مسلح دھڑوں کے ہیڈ کوارٹر میں سے ایک کو نشانہ بنایا گیا"۔ ابتدائی معلومات کے مطابق حملے کا ہدف "ہلکے ہتھیاروں کا گودام تھا۔" اہلکار نے بتایا کہ اس علاقے میں آٹھ افراد زخمی ہوئے۔

دوسرے حملے میں پاپولر موبیلائزیشن فورسز [الحشد] سے وابستہ آپریشنز کمانڈ سینٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ الحشد ملیشیا مسلح دھڑوں کا ایک اتحاد ہے جو سرکاری عراقی افواج کا حصہ بن چکے ہیں۔

ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بھی بتایا کہ عراق میں پہلا امریکی حملہ القائم کے علاقے میں ہوا جس میں حزب اللہ بریگیڈز کو نشانہ بنایا گیا۔ اس کے علاوہ العکاشات میں دوسراحملہ کیا گیا جس میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے اردن کی سرحد کے قریب ایک فوجی اڈے پر تین امریکی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد امریکی انتظامیہ نے اس کا الزام ایران نواز دھڑوں پر عاید کیا تھا۔ امریکا نے دھمکی دی تھی کہ وہ اس حملے کا جلد اور سخت جواب دے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں